اسلام آباد حملے کے ذمہ داروں کو نشانِ عبرت بنایا جائے، مفتی تقی عثمانی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
اسلام آباد حملے کے ذمہ داروں کو نشانِ عبرت بنایا جائے، مفتی تقی عثمانی کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 8 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین صدر وفاق مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، سینئر نائب صدرمولانا انوار الحق، ناظم اعلی وفاق المدارس مولانا محمد حنیف جالندھری اوردیگر نے اسلام آباد امام بارگاہ میں ہونے والے خود کش حملے کو افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کی جان لینے اور خون بہانے کی ہرگز اجازت نہیں، مساجد، امام بارگاہوں اور مدارس میں ایسی وارداتیں کرنے والے انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں۔علما نے کہا کہ ایسی خون ریز کارروائیاں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے مترادف ہیں، اس خونریز اور ظالمانہ کاروائی میں ملوث عناصر کے نیٹ ورک کا سراغ لگا کر انہیں نشان عبرت بنایا جائے۔ وفاق المدارس العربیہ نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر کی تمام مساجد،امام بارگاہوں اور مدارس کو فول پروف سکیورٹی مہیا کی جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعطا تارڑ کا بیان غیر ذمہ دارانہ قرار، بیرسٹر گوہر نے معافی کا مطالبہ کر دیا عطا تارڑ کا بیان غیر ذمہ دارانہ قرار، بیرسٹر گوہر نے معافی کا مطالبہ کر دیا ملک کے مختلف حصوں میں 10فروری تک بارش کی پیشگوئی امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے بھی لاہور میں بسنت منائی ان کا بیانیہ دفن ہوچکا، 8فروری کی ہڑتال پر کسی نے کان نہیں دھرا، امیر مقام اٹھارویں ترمیم کوئی آسمانی صحیفہ نہیں، اتفاق رائے سے تبدیلی ممکن ہے، رانا ثنااللہ بات چیت کیلئے تیار، افغانستان دہشتگردی کیخلاف اقدامات کرے، بلال اظہر کیانیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد کا مطالبہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔