پارلیمانی کمیٹیوں کو بااختیار بنانے کیلئے قانون سازی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: فری اینڈ فیئرالیکشن نیٹ ورک (فافن) نے پارلیمانی کمیٹیوں کو بااختیار بنانے کیلئے آرٹیکل 66 کے تحت فوری قانون سازی کا مطالبہ کر دیا۔
وفاقی دارالحکومت سے جاری فری اینڈ فیئرالیکشن نیٹ ورک کی پالیسی بریف کے مطابق واضح قانونی اختیارات نہ ہونے کے باعث پارلیمانی کمیٹیوں کی نگرانی کمزور اور غیر مؤثر ہے۔
فافن نے پارلیمانی کمیٹیوں کو طلبی اور دستاویزات طلب کرنے کے مؤثر اختیارات دینے کی سفارش کی ہے۔بریفنگ میں کہا گیا کہ کمیٹی ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کیخلاف قانونی کارروائی اور سزاؤں کا واضح نظام ہونا چاہیے، دفاع، سکیورٹی اور خارجہ اُمور کے نام پر معلومات چھپانے کے وسیع اختیارات محدود کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔
فافن کا مزید کہنا تھا کہ رازداری کے نام پر معلومات روکنے کیلئے تحریری جواز اور واضح معیار مقرر ہونا چاہیے، آرٹیکل 66 اور پارلیمانی قواعد کے درمیان ابہام دور کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پارلیمانی کمیٹیوں
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔