نوشکی میں مزدوری کے لیے بھیجے گئے ایک ہی خاندان کے چار نوجوان ہلاک: غربت اور مجبوری کی کہانی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
سندھ کے ضلع گھوٹکی کے علاقے اوباڑو کے رفیق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ غربت اور مجبوری کی وجہ سے انہوں نے اپنے خاندان کے چار نوجوان بچوں کو سینکڑوں میل دور بلوچستان میں مزدوری کے لیے بھیجا، لیکن بدقسمتی سے وہ سب اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔
رفیق احمد کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ان کے تین بھتیجے اور ایک کزن کا بیٹا شامل تھے، جن کی عمر 17 سے 20 سال کے درمیان تھی اور سب نابالغ اور غیر شادی شدہ تھے۔ ان میں سجاد حسین اور شہزاد حسین سگے بھائی تھے، غلام عباس ان کے دوسرے بھائی کے بیٹے، اور چوتھے نوجوان کامران ان کے چچا زاد بھائی تھے۔
چاروں نوجوان تین ماہ قبل سندھ کے ایک ٹھیکیدار کے ساتھ بلوچستان کے ہوشاپ اور پھر کوئٹہ کے راستے نوشکی میں ڈگری کالج کی تعمیراتی کاموں میں مزدوری کے لیے گئے تھے۔ رفیق احمد نے بتایا کہ 31 جنوری کو شدت پسندوں کے حملوں کے بعد جب وہ اپنے بچوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے تو فون مسلسل بند تھے۔ بعد ازاں ٹھیکیدار سے رابطہ کرنے پر ان کی موت کی تصدیق ہوئی۔
رفیق احمد کا کہنا تھا، “ہم غریب تھے اور یہاں روزگار کے مواقع نہیں تھے، اسی لیے بچوں کو دور مزدوری کے لیے بھیجا، لیکن ہمیں کیا پتہ تھا کہ وہ کفن میں لوٹیں گے۔”
نوشکی میں واقع ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایم ایس شے حق بلوچ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے نو افراد میں سے پانچ کی شناخت سندھ سے ہوئی، اور تین روزہ جھڑپوں کی وجہ سے لاشیں فوری طور پر ان کے آبائی علاقوں کو نہیں پہنچائی جا سکیں۔ انتظامیہ کے مطابق ان پانچ لاشوں کو بعد میں سندھ بھیج دیا گیا۔
یہ افسوسناک واقعہ غربت، محدود وسائل اور سکیورٹی چیلنجز کے سنگین اثرات کا ایک المیہ منظر پیش کرتا ہے، جہاں نوجوان اپنے خاندان کی کفالت کے لیے قربانیاں دیتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مزدوری کے لیے رفیق احمد
پڑھیں:
پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا ہےکہ پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی۔لاہور میں معروف ہدایت کارہ سنگیتا کی نئی فلم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عظمٰی بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز سنیما انڈسٹری کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہیں، نوجوان نسل کو ٹچ اسکرین سے نکال کر سنیما کی طرف لائیں گے۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ہم اچھے ڈرامے بنالیتےہیں تو اچھی فلم کیوں نہیں بناسکتے، اچھے ڈراموں کے ساتھ اچھی فلمیں بھی بنانا ہوں گی، نوجوان ہدایت کار فلمی دنیا میں نئی سوچ لے کر آئیں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے فلمی دنیا کو نئی سمت دی ہے، فلم کسی مخصوص طبقے کے لیے نہیں ہونی چاہیے، اچھے موضوعات پر معیاری فلمیں بناناہوں گی۔
پاکستان کی پرائیویٹ حج سکیم کے 3 منظمین کی پہلی،دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے کی خوشی میں مکہ مکرمہ میں اظہار تشکر کی تقریب
ان کا کہنا تھا کہ پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، فلموں کے ذریعے ملک کا مثبت تشخص اجاگر کیا جاسکتا ہے، فلم سٹی منصوبے میں تمام جدید سہولیات فراہم کریں گے، جو نوجوان فلم اور ڈرامہ پڑھ کر آرہے ہیں انہیں بھی موقع ملےگا۔
مزید :