بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کا گھر پر بسنت منانے کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک : بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے بھی گھر پر بسنت منانے کا اعتراف کرلیا۔
اے ٹی سی پنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہم نے کسی کو نہیں کہا تھا کہ بسنت نہ مناؤ، لاہوریوں کو بسنت منانے سے کون روک سکتا ہے، میں نے بھی گھر پر پتنگ اڑائی ہے۔
علیمہ خان نے کہا کہ لاہوریوں کا جنون دیکھا جہاں بچہ بچہ پتنگیں اڑا رہا تھا، میرا بیٹا 6 فروری کو اپنے بچوں کے ساتھ بسنت منانے گیا تھا۔علیمہ خان نے کہا کہ میرا بڑا بیٹا جنونی ہے وہ بسنت کا شوقین ہے، لاہوریوں کو بسنت سے روکنا بڑا مشکل ہے، یہ کسی پارٹی کی بسنت تو نہیں ہے۔
نقلی پسٹل دیکھا کر شہریوں کو لوٹنے والے 2ملزمان گرفتار
علیمہ خان نے کہا کہ 8 فروری کا احتجاج بہت زبردست تھا، لوگوں نے جس طرح چپ کرکے ووٹ ڈالا تھا کل احتجاج بھی چپ کرکے کیا، پہلے یہ کہتے تھے گھر بیٹھو اب کہتے ہیں باہر نکلو۔ پاکستانیوں نے خاموشی سے احتجاج ریکارڈ کرایا۔علیمہ خان نے کہا کہ جنہوں نے کل دکانیں بند کرکے احتجاج کرنا تھا انہوں نے کیا جنہوں نے احتجاج نہیں کرنا تھا انہوں نے نہیں کیا، کل کا احتجاج کامیاب تھا آپ جو مرضی کہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں گزشتہ دو سال کے کیسز جمع ہوئے تھے، نمایاں پیش رفت یہ ہے کہ اپیلوں پر سماعت کیلئے تین رکنی بنچ بنا دیا گیا ہے۔
بسنت پر 20 ارب کا کاروبار ہوا؛ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: علیمہ خان نے کہا کہ
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔