بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے بھی گھر پر بسنت منانے کا اعتراف کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھی گھر پر بسنت منانے کا اعتراف کرلیا۔ انسداد دہشت گردی پنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہم نے کسی کو نہیں کہا تھا کہ بسنت نہ مناو، میں نے بھی گھر پر پتنگ اڑائی ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ لاہوریوں کو بسنت منانے سے کون روک سکتا ہے، جنون دیکھا جہاں بچہ بچہ پتنگیں اڑا رہا تھا، میرا بیٹا 6 فروری کو اپنے بچوں کے ساتھ بسنت منانے گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میرا بڑا بیٹا جنونی ہے وہ بسنت کا شوقین ہے، لاہوریوں کو بسنت سے روکنا بڑا مشکل ہے، یہ کسی پارٹی کی بسنت تو نہیں ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ 8فروری کا احتجاج بہت زبردست تھا، لوگوں نے جس طرح چپ کرکے ووٹ ڈالا تھا کل احتجاج بھی چپ کرکے کیا، پہلے یہ کہتے تھے گھر بیٹھو اب کہتے ہیں باہر نکلو، پاکستانیوں نے خاموشی سے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ علیمہ خان نے کہا کہ جنہوں نے کل دکانیں بند کرکے احتجاج کرنا تھا انہوں نے کیا جنہوں نے احتجاج نہیں کرنا تھا انہوں نے نہیں کیا، کل کا احتجاج کامیاب تھا آپ جو مرضی کہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: علیمہ خان نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ