City 42:
2026-07-24@02:50:52 GMT

رمضان المبارک میں بینکوں کے اوقات کار کیا ہوں گے؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

ویب ڈیسک : رمضان المبارک 2026 میں بینکوں کے متوقع اوقات کار سامنے آگئے ، یہ اوقات رمضان کے پورے مہینے کے دوران نافذ رہیں گے۔

 اسٹیٹ بینک کی جانب سے کہا گیا کہ ملک میں رمضان المبارک 2026 کے دوران تمام سرکاری اور نجی بینکوں کے کام کے اوقات کم کر دیے جائیں گے۔

 رمضان المبارک کا آغاز پاکستان میں جمعرات، 19 فروری یا جمعہ، 20 فروری 2026 کو متوقع ہے، جو چاند نظر آنے پر منحصر ہوگا۔ اگر شعبان 29 دن کا ہو تو رمضان 19 فروری سے شروع ہوگا، اور اگر شعبان 30 دن کا ہو تو 20 فروری سے۔

نقلی پسٹل دیکھا کر شہریوں کو لوٹنے والے 2ملزمان گرفتار

 چاند دیکھنے کے لئے اجلاس 18 فروری کی شام کو منعقد کیا جائے گا۔

 بینک کے دفتری اوقات
پیر تا جمعرات: صبح 09:00 بجے تا 03:00 بجے

 جمعہ: صبح 09:00 بجے تا 12:30 بجے

 عوامی لین دین کے اوقات
پیر تا جمعرات: صبح 09:00 بجے تا 02:00 بجے

 جمعہ: صبح 09:00 بجے تا 12:30 بجے

 یہ اوقات رمضان کے پورے مہینے کے دوران نافذ رہیں گے تاکہ ملازمین اور صارفین کے روزہ رکھنے کے شیڈول کے مطابق سہولت فراہم کی جا سکے۔ رمضان کے اختتام کے بعد بینکوں کے اوقات دوبارہ پہلے جیسے معمول کے مطابق ہوں گے۔

بسنت پر 20 ارب کا کاروبار ہوا؛ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: رمضان المبارک بینکوں کے کے اوقات

پڑھیں:

چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت

دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139  نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک