City 42:
2026-06-03@00:52:08 GMT

رمضان المبارک میں بینکوں کے اوقات کار کیا ہوں گے؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

ویب ڈیسک : رمضان المبارک 2026 میں بینکوں کے متوقع اوقات کار سامنے آگئے ، یہ اوقات رمضان کے پورے مہینے کے دوران نافذ رہیں گے۔

 اسٹیٹ بینک کی جانب سے کہا گیا کہ ملک میں رمضان المبارک 2026 کے دوران تمام سرکاری اور نجی بینکوں کے کام کے اوقات کم کر دیے جائیں گے۔

 رمضان المبارک کا آغاز پاکستان میں جمعرات، 19 فروری یا جمعہ، 20 فروری 2026 کو متوقع ہے، جو چاند نظر آنے پر منحصر ہوگا۔ اگر شعبان 29 دن کا ہو تو رمضان 19 فروری سے شروع ہوگا، اور اگر شعبان 30 دن کا ہو تو 20 فروری سے۔

نقلی پسٹل دیکھا کر شہریوں کو لوٹنے والے 2ملزمان گرفتار

 چاند دیکھنے کے لئے اجلاس 18 فروری کی شام کو منعقد کیا جائے گا۔

 بینک کے دفتری اوقات
پیر تا جمعرات: صبح 09:00 بجے تا 03:00 بجے

 جمعہ: صبح 09:00 بجے تا 12:30 بجے

 عوامی لین دین کے اوقات
پیر تا جمعرات: صبح 09:00 بجے تا 02:00 بجے

 جمعہ: صبح 09:00 بجے تا 12:30 بجے

 یہ اوقات رمضان کے پورے مہینے کے دوران نافذ رہیں گے تاکہ ملازمین اور صارفین کے روزہ رکھنے کے شیڈول کے مطابق سہولت فراہم کی جا سکے۔ رمضان کے اختتام کے بعد بینکوں کے اوقات دوبارہ پہلے جیسے معمول کے مطابق ہوں گے۔

بسنت پر 20 ارب کا کاروبار ہوا؛ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: رمضان المبارک بینکوں کے کے اوقات

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا