بھارتی کرکٹ بورڈ کے سالانہ معاہدے: کوہلی اور شرما کی تنزلی، گروپ بی میں شمولیت
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے پیر کے روز 2025-26 سیزن کے لیے ٹیم انڈیا کے سینیئر مرد اور خواتین کھلاڑیوں کے سالانہ معاہدوں کا اعلان کر دیا جس کے تحت سابق کپتان ویرات کوہلی اور روہت شرما کو گروپ بی میں شامل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بابراعظم نے ٹی20 انٹرنیشنل میں ایک اور سنگ میل عبور کرلیا، ویرات کوہلی کو پیچھے چھوڑ دیا
مردوں کے شعبے میں 2 فارمیٹس کے کپتان شبمن گل، فاسٹ بولر جسپریت بمراہ اور ٹیسٹ آل راؤنڈر رویندر جدیجا کو گروپ اے میں برقرار رکھا گیا ہے۔
کوہلی اور روہت شرما چونکہ بالترتیب ٹیسٹ اور ٹی 20 کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں اس لیے اب وہ عملاً ایک ہی فارمیٹ کے کھلاڑی رہ گئے ہیں اور یوں اعلیٰ درجے (گروپ اے) کے معیار پر پورا نہیں اتر سکے۔
اگرچہ بی سی سی آئی نے مختلف زمروں کے معاوضے کی رقم ظاہر نہیں کی تاہم گزشتہ سیزنز میں گروپ اے کے کھلاڑیوں کو سالانہ 5 کروڑ روپے، گروپ بی کو 3 کروڑ روپے اور گروپ سی کو ایک کروڑ روپے ادا کیے جاتے رہے ہیں۔
مردوں کے گروپ بی میں شامل دیگر نمایاں کھلاڑیوں میں واشنگٹن سندر، کے ایل راہول، محمد سراج، ہردک پانڈیا، رشبھ پنت، کلدیپ یادیو، یشسوی جیسوال، سوریہ کمار یادیو اور شریاس ائیر شامل ہیں۔
مزید پڑھیے: ویرات کوہلی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ اچانک غائب، مداح حیران
خواتین کرکٹ میں ہرمن پریت کور، اسمرتی مندھانا اور جمیما روڈریگز کو گروپ اے میں رکھا گیا ہے جبکہ دیپتی شرما گروپ بی میں شامل ہیں ان کے ساتھ رینوکا ٹھاکر، شیفالی ورما، رچا گھوش اور سنیہ رانا بھی اسی زمرے کا حصہ ہیں۔
بی سی سی آئی نے اس موقع پر واضح کیا کہ اب اے پلس کیٹیگری کو ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ درجہ سابقہ کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز (سی او اے) نے سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی کی سفارش پر متعارف کرایا تھا جس کا مقصد تینوں فارمیٹس میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو اضافی انعام دینا تھا۔ ماضی میں صرف 4 کھلاڑی کوہلی، روہت، جدیجا اور بمراہ اس معیار پر پورا اترے تھے۔
مزید پڑھیں: ون ڈے کرکٹ: ڈیرل مچل نے ویرات کوہلی سے نمبر ون بیٹر کا اعزاز چھین لیا
تاہم ان میں سے 3کھلاڑیوں کے ایک یا زائد فارمیٹس سے ریٹائر ہونے کے بعد بی سی سی آئی نے اس کیٹیگری کو برقرار نہ رکھنے کا فیصلہ کیا خصوصاً اس لیے بھی کہ سلیکشن کمیٹی کے نزدیک شبمن گل تاحال تینوں فارمیٹس کے مستقل کھلاڑی ثابت نہیں ہو سکے جس کی مثال ٹی 20 ورلڈ کپ اسکواڈ سے ان کی عدم شمولیت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی کرکٹ بورڈ کے معاہدے روہت شرما روہت شرما کی تنزلی کوہلی کی تنزلی ویرات کوہلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی کرکٹ بورڈ کے معاہدے روہت شرما روہت شرما کی تنزلی کوہلی کی تنزلی ویرات کوہلی ویرات کوہلی گروپ بی میں روہت شرما گروپ اے گیا ہے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔