الیکشن کمیشن بنگلہ دیش نے پولنگ اسٹیشنز کے احاطے میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی واپس لے لی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے پولنگ کے روز پولنگ اسٹیشنز کے احاطے میں موبائل فون لے جانے پر پابندی واپس لے لی ہے۔
بنگلہ دیش میں 11 جماعتی انتخابی اتحاد کے ایک وفد نے پیر کے روز الیکشن کمیشن سے ملاقات کی اور حالیہ نوٹیفیکیشن پر عوامی تحفظات سے آگاہ کیا، جس میں آئندہ 13 واں قومی پارلیمانی انتخاب کے دوران ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنز پر موبائل فون لے جانے سے روکنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: چیف الیکشن کمشنر کی تمام فریقین سے شفاف انتخابات کے لیے تعاون کی اپیل
وفد کی قیادت جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اور پبلسٹی و میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ایڈووکیٹ احسان الحق محبوب زبیر نے کی۔ ملاقات میں نیشنل سٹیزن پارٹی، اے بی پارٹی، بنگلہ دیش خلافت مجلس، ایل ڈی پی، لیبر پارٹی، جاگپا سمیت دیگر جماعتوں کے نمائندے بھی شریک تھے۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ زبیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ابتدائی ہدایت کے مطابق پولنگ اسٹیشن سے 400 گز کے دائرے میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی اور صرف الیکشن سے متعلق سرکاری اہلکاروں کو موبائل فون رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔
ان کے مطابق اس فیصلے سے صحافیوں اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو بھی باہر رکھا گیا، جس سے ووٹرز اور دیگر فریقین میں تشویش پیدا ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: طلبہ تنظیم کا الیکشن کمیشن کا دوسرے روز بھی گھیراؤ، مظاہرین کیا چاہتے ہیں؟
ایڈووکیٹ زبیر نے کہا کہ ایسے وقت میں جب آزاد، منصفانہ اور پُرامن انتخابات کی توقع کی جارہی ہے، اس قسم کا نوٹیفیکیشن غیر ضروری بے چینی کا باعث بنا۔ انہوں نے کہا کہ چیف ایڈوائزر بارہا یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ یہ انتخابات سب سے زیادہ شفاف اور قابلِ اعتماد ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے وفد کو آگاہ کیا ہے کہ مذکورہ ہدایت پہلے ہی واپس لی جا چکی ہے اور جلد تحریری وضاحت بھی جاری کردی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے یقین دلایا ہے کہ ووٹرز کو موبائل فون ساتھ لے جانے کی اجازت ہو گی، تاہم پولنگ اسٹیشن کے اندر استعمال کے لیے مخصوص ضابطہ اخلاق ہوگا۔
ایڈووکیٹ زبیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے واضح اور یکساں مؤقف نہ ہونے کی وجہ سے اکثر زمینی سطح پر کنفیوژن پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ الیکشن کے روز کسی بھی قسم کے ناخوشگوار یا غیر متوقع واقعے سے بچنا ضروری ہے۔
وفد نے معاون فورسز، بشمول بنگلہ دیش نیشنل کیڈٹ کور کی تعیناتی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا، جس پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون میں اس کی گنجائش موجود ہے اور مختلف پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کا غیر معروف این جی او کو دیے گئے مبصر کارڈز معطل کرنے کا فیصلہ
ایڈووکیٹ زبیر نے کہا کہ چونکہ ریفرنڈم اور پارلیمانی انتخابات ایک ہی دن ہوں گے، اس لیے ووٹنگ کا عمل معمول سے زیادہ وقت لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 انتخابات میں عوام کو مؤثر شرکت کا موقع نہ ملنے کے باعث اس بار عوامی جوش و جذبہ زیادہ ہے، لہٰذا ہر ممکن معاون فورس تعینات کی جانی چاہیے۔
وفد نے امن و امان کی صورتحال پر بھی خدشات ظاہر کیے اور کچھ اضلاع، جن میں کھلنا، نٹور اور شریعت پور شامل ہیں، کے بعض پولیس اور الیکشن افسران کے کردار پر تحفظات سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حساس حلقوں میں کسی بھی رکاوٹ سے بچنے کے لیے ضروری اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔
ایڈووکیٹ زبیر نے بتایا کہ پٹوآکھالی کے باوفل علاقے میں ایک تھانہ انچارج کی حالیہ تبدیلی کو مثبت قدم قرار دیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈھاکہ 15 جیسے اہم حلقوں میں اضافی سیکیورٹی فراہم کی جائے اور ہائی رسک علاقوں کی کڑی نگرانی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ووٹ خریدنے والوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے، امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمان
ان کا کہنا تھا کہ اتحاد کو امید ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی صلاحیت کے مطابق تمام اقدامات کرے گا اور ایسے سرکلرز جاری کرنے سے گریز کرے گا جو نئی بے چینی کو جنم دیں۔ انہوں نے صحافیوں کے لیے پاسز کے اجرا اور پولنگ اسٹیشنز سے براہِ راست کوریج کے قواعد واضح کرنے پر بھی زور دیا۔
الیکشن کمیشن نے وفد کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان تمام امور پر مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انتخابات بنگلہ دیش پابندی جماعت اسلامی موبائل فون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتخابات بنگلہ دیش پابندی جماعت اسلامی موبائل فون کہ الیکشن کمیشن الیکشن کمیشن نے پولنگ اسٹیشنز یہ بھی پڑھیں موبائل فون انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
اسلام آباد: موبائل انٹرنیٹ پیکجز مہنگے ہونے سے ملک بھر کے لاکھوں موبائل صارفین کو اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ تفصیلات کے مطابق مختلف موبائل کمپنیوں کے متعدد کال، ہائبرڈ اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق مختلف موبائل آپریٹرز کے 15 مقبول ہائبرڈ اور ڈیٹا اونلی پیکجز کی قیمتوں میں 33 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد صارفین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنا ہوگی۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ کال اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں 500 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 15 روزہ پیکجز اب 300 روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔
اسی طرح ہفتہ وار ہائبرڈ پیکجز کی قیمت میں 130 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تین روزہ پیکجز 21 روپے، دو روزہ پیکجز 20 روپے اور ایک روزہ ہائبرڈ پیکجز 5 روپے تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی سہولت کے لیے تمام نئی ٹیرف تفصیلات ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہیں، جہاں مختلف موبائل کمپنیوں کے کال اور انٹرنیٹ پیکجز، ان کی مدت، قیمت اور دستیاب سہولیات کا بآسانی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیلی کام شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کو مختلف موبائل کمپنیوں کے پیکجز سے متعلق درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کی قیمتوں میں اضافے سے طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور روزمرہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔