بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ ساتھ کھڑے ہونے پر پاکستان کا مشکور، بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی درخواست کردی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے پاکستان سے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی باضابطہ درخواست کردی ہے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں پی سی بی چیئرمین کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ مشکل وقت میں پاکستان نے بنگلہ دیش کرکٹ کا بھرپور ساتھ دیا، اس لیے پاکستان سے درخواست ہے کہ وہ بھارت کے خلاف ورلڈ کپ میچ کھیلے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے پاکستان سے 15 فروری کو بھارت کے ساتھ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا میچ کھیلنے کی درخواست کر دی pic.
— Fahim Akhtar Malik (@writetofahim) February 9, 2026
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ تنازع: پاکستان کا سری لنکن صدر کی درخواست پر بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کا فیصلہ
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا تھا، جس میں سری لنکن صدر نے پاک بھارت میچ کے انعقاد کے لیے وزیراعظم سے درخواست کی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق سری لنکن صدر کا مؤقف تھا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو سری لنکا میں شیڈول پاک بھارت میچ ضرور کھیلنا چاہیے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے سری لنکن صدر کے جذبات کا خیرمقدم کیا اور کہاکہ پاکستان میں بھی مشکل حالات کے دوران سری لنکا نے بھرپور تعاون کیا اور کرکٹ سرگرمیاں جاری رکھیں۔
وزیراعظم نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ حالیہ دنوں میں سری لنکن ٹیم کا پاکستان کا دورہ منسوخ نہ کرنا پاکستانی قوم اور شائقینِ کرکٹ کے لیے ایک ناقابلِ فراموش اقدام تھا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سری لنکن صدر کو آگاہ کیا کہ پاک بھارت میچ سے متعلق حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا اور اس فیصلے سے انہیں آگاہ کیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں 15 فروری کو بھارت کے خلاف شیڈول کے مطابق میچ کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر بار بار درخواست کے باعث پاکستان نے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ تنازع پر آئی سی سی کے ساتھ چیزیں چل رہی ہیں، ہم کسی سے ڈرتے نہیں، محسن نقوی
واضح رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر کی ملاقات ہوئی، جس میں اس اہم ایشو پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے ساتھ چیزیں چل رہی ہیں، جونہی کوئی پیشرفت ہوئی تو سامنے لائیں گے، تاہم ہم کسی سے ڈرتے نہیں ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ چیئرمین پی سی بی درخواست کردی محسن نقوی مشکور وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ چیئرمین پی سی بی درخواست کردی محسن نقوی مشکور وی نیوز بھارت کے خلاف میچ کھیلنے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ ٹی20 ورلڈ کپ محسن نقوی کے مطابق پی سی بی
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز