تیراہ: دہشتگردوں نے مسجد و مدرسے کو آپریشنل اڈہ بنا لیا، دہشتگردی کے لیے کواڈ کاپٹر ڈرونز کے استعمال کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کی جانب سے خیبرپختونخوا کے علاقے تیراہ میں مساجد کی بے حرمتی کی جانے لگی۔ جبکہ فتنہ الخوارج کی جانب سے دہشتگردی کے لیے کواڈ کاپٹر ڈرونز کے استعمال کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
مزید پڑھیں: نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق رائے موجود، دہشتگردی کے معاملے پر سیاسی الزام تراشی بند ہونی چاہیے، طلال چوہدری
ذرائع کے مطابق خوارج نے تیراہ میدان کے علاقے میں واقع شڈالہ مدرسہ اور مسجد کو اپنا آپریشنل اڈہ اور مورچہ بنا لیا ہے، جس سے عبادت گاہوں کے تقدس کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق خوارج اسلحہ سمیت مسجد اور مدرسے کے اندر موجود ہیں اور طویل عرصے تک انہیں اپنے ٹھکانے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں مساجد کو امن، عبادت اور روحانی سکون کی علامت قرار دیا گیا ہے اور نبی کریم ﷺ کی احادیث میں واضح ہے کہ مسجد کے اندر اسلحہ لانا سختی سے منع ہے تاکہ نمازیوں کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنایا جا سکے۔
سیکیورٹی حکام اور مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ خوارج کے اس اقدام سے نہ صرف عبادت گاہوں کا تقدس پامال ہوا ہے بلکہ مقامی آبادی کی جان و مال بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، کیونکہ مسجد اور مدرسے اب امن کے مراکز کی بجائے ہدف بن چکے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خوارج نے کسی بھی مقدس مقام کو محفوظ نہیں چھوڑا اور مذہب کا غلط استعمال کرتے ہوئے تشدد کو جواز بنایا ہے، جس سے ان کی نظریاتی انحراف اور اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی واضح ہوگئی ہے۔
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق فتنہ الخوارج نے پاکستانی فوجی مقامات پر ڈرون حملوں کے لیے کواڈ کاپٹر ڈرونز استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں، جو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی دہشتگردانہ کارروائیوں کے ابھرتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج نے دور سے جنگ لڑنے کے لیے ڈرون وارفیئر اپنائی ہے تاکہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ براہِ راست مقابلے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
فتنہ الخوارج تجارتی ڈرونز افغانستان سے تحریک طالبان افغانستان سے منسلک نیٹ ورکس اور بلیک مارکیٹ کے ذریعے حاصل کرتا ہے، جس سے سرحد پار لاجسٹک سہولتیں ظاہر ہوتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق خوارج ڈرون حملوں میں شہریوں کو نشانہ بنا کر انسانی جانوں کی مکمل بے حرمتی کررہے ہیں اور پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہر حملے کے بعد خوارج ریاست پر الزامات عائد کرنے کے لیے غلط معلومات پھیلانے کی مہم بھی چلاتے ہیں، جس کا مقصد حکومت اور سیکیورٹی اداروں پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنا اور قومی اتحاد کو متاثر کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈرونز تک رسائی فتنہ الخوارج کی آپریشنل رینج کو بڑھا دیتی ہے، جس سے وہ روایتی ہتھیاروں اور زمینی حدود سے ماورا حملے کر سکتے ہیں۔
غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں، بشمول را اور جی ڈی آئی مالی، تکنیکی اور لاجسٹک مدد کے ذریعے فتنہ الخوارج کو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے میں سہولت فراہم کررہی ہیں۔
مزید پڑھیں: تیراہ آپریشن: پاکستان کے دہشتگرد مخالف اقدامات کے حقائق عوام کے سامنے
سیکورٹی ماہرین نے کہا ہے کہ بیرونی پشت پناہی اور جدید حربوں کے باوجود پاکستان کے ادارے اور عوامی عزم مضبوط ہیں، جس کی بدولت اس طرح کی دہشتگردانہ کارروائیوں کے طویل مدتی اثرات محدود رہیں گے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن افراد کو بار بار لاپتا کہہ کر دکھایا جاتا ہے، وہ بعد میں بی ایل اے اور بی ایل ایف کی دہشتگرد کارروائیوں میں بندوق اٹھائے سامنے آتے ہیں۔ ایسے افراد لاپتا نہیں چھپے ہوئے قاتل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آپریشنل مقاصد تیراہ خوارج مدرسہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تیراہ خوارج وی نیوز فتنہ الخوارج کے مطابق خوارج نے کے لیے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔