ٹی20 ورلڈ کپ 2026: پاکستانی کرکٹر احسان عادل جسدیپ سنگھ کے متبادل کے طور پر امریکی اسکواڈ میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کی ایونٹ ٹیکنیکل کمیٹی نے جسدیپ سنگھ کے متبادل کے طور پر احسان عادل کو امریکا کے اسکواڈ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ 2026، آئی سی سی پاکستانی نژاد کھلاڑیوں اور آفیشلز کے ویزا کلیئرنس کے لیے متحرک
احسان عادل اس سے قبل پاکستان کی جانب سے 3 ٹیسٹ اور 6 ون ڈے میچز کھیل چکے ہیں، تاہم انہوں نے اب تک امریکا کی نمائندگی نہیں کی۔ جسدیپ سنگھ کو نیوزی لینڈ کے خلاف 5 فروری کو وارم اپ میچ کے دوران دائیں کندھے میں انجری ہوئی تھی، جس کے باعث وہ ایونٹ سے باہر ہو گئے۔
قوانین کے مطابق کسی بھی کھلاڑی کی تبدیلی کے لیے ایونٹ ٹیکنیکل کمیٹی کی منظوری لازمی ہوتی ہے، جس کے بعد ہی متبادل کھلاڑی کو باضابطہ طور پر اسکواڈ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فتح جنگ کا علی خان امریکی کرکٹ ٹیم تک کیسے پہنچا؟
آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کی ایونٹ ٹیکنیکل کمیٹی میں آئی سی سی جنرل منیجر کرکٹ وسیم خان، آئی بی سی کے نمائندے گورو سکسینا، میزبان نمائندہ ہیمنگ امین اور آزاد نمائندہ شان پولاک شامل ہیں۔
احسان عادل کی شمولیت سے امریکی ٹیم کی بولنگ لائن اپ کو مزید تقویت ملنے کی توقع کی جارہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news احسان عادل امریکا امریکی اسکواڈ بھارت پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی اسکواڈ بھارت پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ ورلڈ کپ 2026
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔