میری برداشت ختم ہو گئی میں اب سے پارلمانی پارٹی کا حصہ نہیں، جنید اکبر
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کا کہنا ہے کہ میری برداشت ختم ہوگئی ہے، اسپیکر سے کل بات کروں گا آج کے بعد میں آزاد پوزیشن میں ہوں گا، اسپیکر کو خط لکھوں گا کہ پی ٹی آئی سے الگ نشست دیں۔
پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں پی ٹی آئی خیبرپختون خوا کے صدر جنید اکبر نے پیغام دیا کہ آج کے بعد پارلیمانی کمیٹی کا حصہ نہیں ہوں، پارلیمانی لیڈر سمیت کسی کو نہیں مانتا۔
جنید اکبر کا کہنا تھا کہ یہ کونسا طریقہ ہے؟ کہ ہر دن لوگ بات کرتے ہیں، ہماری شرافت کو غلط سمجھا جارہا ہے، جنید اکبر نے آڈیو میں ہونے والی اپنی گفتگو کی تصدیق کردی۔
انہوں نے کہا کہ میری برداشت ختم ہو گئی میں اب سے پارلمانی پارٹی کا حصہ نہیں، میں اب سے نہ چیف وہپ کو مانتا ہوں نہ ہی پارلیمانی لیڈر کو مانتا ہوں۔
جنید اکبر نے کہا کہ میں رمضان میں بولا تھا بجٹ میں بات کی، اب بولنے کی کوشش کی لیکن موقع نہ دیا گیا، ہم کیا یہاں چھولے کھانے آتے ہیں ہر بات پر چند لوگوں نے ہی بولنا ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ چیف وہپ کون ہوتا ہے فیصلے کرنے والا کہ روزانہ کون بولے گا، کوئی طریقہ ہے کوئی انسانیت ہے آپ لوگوں میں، یہ کیا طریقہ ہے کہ وہ بولیں گے اور ہم ڈیسک بجائیں گے۔
جنید اکبر نے کہا کہ کسی میں ہمت نہیں دہشت گردی پر پوچھ سکے ایوان میں محسن نقوی کیوں نہ آئے، اتنی ہمت نہیں کہ سچ بولیں اور روزانہ چہرے دکھانے آ جاتے ہیں۔
جنید اکبر کا مزید کہنا تھا کہ آج سے اس پارلیمانی پارٹی کا حصہ نہیں اور نہ ہی اپ لوگوں کا حصہ ہوں، میں آزاد حیثیت سے آگے بڑھوں گا میں اسپیکر سے بات کروں گا اب مجھے آپ کے ساتھ بیٹھنا نہیں، میرا خیال ہے کہ میرے اپنے لوگ مجھے نہیں بولنے دیتے، یہ سب درباری ہیں ہمیں بولنے کا موقع تک نہیں دیتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جنید اکبر نے کا حصہ نہیں
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔