Express News:
2026-06-02@23:30:56 GMT

عالمی طاقتوں کا دوہرا معیار

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

روس نے یوکرین پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں جس میں بجلی پیدا اور ترسیل کرنے والے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جس میں 400 سے زائد ڈرونز اور مختلف اقسام کے تقریباً 40 میزائل استعمال کیے گئے۔ حملوں کے نتیجے میں شدید سرد موسم میں لاکھوں افراد حرارت سے محروم ہوگئے ہیں۔

 یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یوکرین اور روس کے نمائندوں کے درمیان ابوظہبی میں مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے۔ دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کو غزہ بورڈ آف پیس میٹنگ میں شرکت کی دعوت موصول ہوگئی ہے اور پاکستان نے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اجلاس میں غزہ کی صورتحال، امن و استحکام سے متعلق اقدامات اور آیندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اب محض دو ریاستوں کا باہمی تنازع نہیں رہی بلکہ یہ موجودہ عالمی نظام، اس کی اخلاقی بنیادوں اور اس کے دعوے کردہ کردار پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ جنگ کے آغاز سے لے کر آج تک دنیا نے مسلسل بیانات، قراردادیں، پابندیاں اور سفارتی کوششیں دیکھیں، مگر عملی طور پر امن کی جانب کوئی ٹھوس پیش رفت نظر نہیں آتی۔ حالیہ دنوں میں روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی کے نظام پر بڑے پیمانے پر کیے گئے فضائی حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ جنگ نہ صرف طول پکڑتی جا رہی ہے بلکہ اس کی نوعیت بھی مزید سفاک اور غیر انسانی ہوتی جا رہی ہے۔

سرد ترین موسم میں بجلی گھروں، تھرمل پاور اسٹیشنز اور ترسیلی نظام کو نشانہ بنانا دراصل عام شہریوں کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور جنگی اخلاقیات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ منفی بیس ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب درجہ حرارت میں ہیٹنگ سسٹم کا بند ہو جانا انسانی زندگی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کے ایک اور دور کی توقع کی جا رہی تھی، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ طاقت کے استعمال کو سفارت کاری پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں تنازعات کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں۔

روس اور یوکرین کی جنگ کو اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض 2022 میں شروع ہونے والا تصادم نہیں بلکہ سرد جنگ کے بعد قائم ہونے والے عالمی طاقت کے توازن کا تسلسل ہے۔ نیٹو کی مشرق کی جانب توسیع، روس کے سیکیورٹی خدشات، یوکرین کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت اور بڑی طاقتوں کے مفادات نے اس خطے کو برسوں سے ایک ممکنہ تصادم کا میدان بنا رکھا تھا۔ مگر اس سب کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ان تاریخی عوامل کی بنیاد پر آج کے دور میں عام شہریوں کو اجتماعی سزا دینا جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ عالمی برادری نے ماضی میں بوسنیا، عراق، افغانستان اور شام جیسے تنازعات میں بھی یہی دیکھا کہ طاقتور ممالک اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتے ہیں اور انسانی جانوں کی قیمت ثانوی ہو جاتی ہے۔

نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کا کیف کے دورے کے دوران یہ کہنا کہ ایسے حملے امن مذاکرات کے لیے غیر سنجیدہ رویے کی عکاسی کرتے ہیں، دراصل ایک اعتراف ہے کہ سفارتی کوششیں مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں۔ اگر عالمی اتحاد واقعی مضبوط ہوتا تو شاید روس کو اس سطح کے حملے کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پابندیوں، سفارتی دباؤ اور عالمی تنہائی کے باوجود روس کی جنگی صلاحیت کیوں برقرار ہے؟ اس کا سادہ جواب یہی ہے کہ عالمی نظام میں طاقت اور مفادات کی سیاست آج بھی غالب ہے اور اخلاقی اصول اکثر بیانیے تک محدود رہ جاتے ہیں۔

اسی عالمی تناظر میں اگر غزہ کی صورتحال کو دیکھا جائے تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ غزہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل تنازع، محاصرے اور انسانی بحران کا شکار ہے۔ ہزاروں جانیں ضایع ہو چکی ہیں، بنیادی انفرا اسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے اور ایک پوری نسل عدم تحفظ، خوف اور محرومی میں پروان چڑھ رہی ہے۔ اس کے باوجود عالمی برادری کی کوششیں یا تو ناکافی رہی ہیں یا پھر جانبداری کا شکار نظر آئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی قراردادیں ہوں یا عالمی طاقتوں کے بیانات، زمینی حقائق میں بہت کم تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ایسے میں واشنگٹن میں غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس کا اعلان بظاہر ایک مثبت پیش رفت محسوس ہوتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں ہونے والا یہ اجلاس، جس میں مختلف ممالک بشمول پاکستان کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے، غزہ کی صورتحال، امن و استحکام اور تعمیرِ نو کے لیے فنڈ ریزنگ پر غور کرے گا۔ مگر اس اقدام کے ساتھ ہی یہ سوال بھی جڑا ہوا ہے کہ کیا یہ اجلاس محض سفارتی سرگرمی اور علامتی قدم ثابت ہوگا یا واقعی غزہ کے مظلوم عوام کے لیے کوئی عملی تبدیلی لائے گا؟امریکا، جو عالمی سیاست میں سب سے طاقتور کردار سمجھا جاتا ہے، غزہ کے معاملے میں اب تک ایک واضح اور غیر جانبدار کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اگر وہ واقعی امن کا خواہاں ہوتا تو اپنی سیاسی، عسکری اور معاشی طاقت استعمال کر کے فوری اور مستقل جنگ بندی ممکن بنا سکتا تھا، مگر ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ غزہ کے حوالے سے اکثر کوششیں یا تو وقتی ہوتی ہیں یا پھر بڑے جغرافیائی اور سیاسی مفادات کی نذر ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی حکومتوں نے غزہ امن بورڈ کے اجلاس پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔

پاکستان کی ممکنہ شرکت اس اجلاس کو ایک اخلاقی اور سفارتی وزن فراہم کر سکتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور انسانی حقوق کی حمایت کی ہے۔ چاہے وزیراعظم شہباز شریف اجلاس میں شریک ہوں یا نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، پاکستان کی موجودگی اس بات کی یاد دہانی ہوگی کہ مسلم دنیا اور ترقی پذیر ممالک اس مسئلے کو محض علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی انسانی بحران سمجھتے ہیں۔

تاہم پاکستان سمیت دیگر ممالک کی آواز اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک بڑی طاقتیں سنجیدگی سے عملی اقدامات پر آمادہ نہ ہوں۔روس اور یوکرین کی جنگ اور غزہ کا بحران دراصل ایک ہی عالمی مسئلے کی دو مختلف شکلیں ہیں۔ دونوں صورتوں میں عالمی ادارے، خصوصاً اقوام متحدہ، اپنی محدودیت کا شکار نظر آتے ہیں۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں ویٹو کی سیاست میں الجھ کر رہ جاتی ہیں اور امن کے قیام کی ذمے داری طاقتور ممالک کی صوابدید پر چھوڑ دی جاتی ہے۔ یہ صورتحال عالمی نظام کے اس بنیادی تضاد کو نمایاں کرتی ہے جہاں طاقت اور انصاف ایک دوسرے کے متوازی نہیں چلتے۔

آج دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اسے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ طاقت کے بل پر قائم نظام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے یا انصاف اور انسانی وقار کو بنیاد بنا کر ایک نیا عالمی معاہدہ تشکیل دینا چاہتی ہے۔ امن بورڈز، کانفرنسیں اور اجلاس اس وقت تک بے معنی رہتے ہیں جب تک ان کے پیچھے حقیقی سیاسی عزم موجود نہ ہو۔

دنیا کو آج محض بیانات نہیں بلکہ ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو طاقتور اور کمزور کے درمیان فرق مٹا سکیں۔ روس کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں، اور غزہ کے حوالے سے یہ واضح کرنا ہوگا کہ انسانی جانوں کی حفاظت سیاسی مفادات سے بالاتر ہے۔اگر عالمی طاقتیں واقعی امن چاہتی ہیں تو انھیں اپنے دوہرے معیار ترک کرنے ہوں گے۔ یوکرین کے لیے اگر سفارتی، معاشی اور عسکری دباؤ استعمال کیا جا سکتا ہے تو غزہ کے لیے کیوں نہیں؟ اگر ایک خطے میں شہریوں پر حملے جنگی جرم کہلاتے ہیں تو دوسرے خطے میں انھیں نظرانداز کیوں کیا جاتا ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جو آج عالمی نظام کے سامنے کھڑے ہیں۔

روس اور یوکرین کی جنگ ہو یا غزہ کا بحران، دونوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کو محض ایک مباحثی فورم کے بجائے ایک مؤثر ادارہ بنانا ہوگا اور بڑی طاقتوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ امن صرف طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، برابری اور انسانی احترام سے قائم ہوتا ہے، اگر ایسا نہ ہوا تو دنیا ایک کے بعد ایک بحران کا سامنا کرتی رہے گی اور امن ایک دور کی حقیقت بنتا چلا جائے گا۔

آخرکار یہ سوال ہر ذی شعور فرد کے ذہن میں ابھرتا ہے کہ جو قوتیں نہ یوکرین میں جنگ رکوا سکیں اور نہ ہی غزہ میں خونریزی ختم کر سکیں، کیا وہ واقعی دنیا میں امن قائم کرنے کی اہل ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر عالمی نظام کو ازسرنو سوچنے اور تشکیل دینے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ دنیا کو آج انتخاب کرنا ہے یا تو وہ طاقت کے سہارے چلتی رہے، یا پھر انسانیت کو اپنا اصل محور بنا لے۔ یہی انتخاب آنے والے برسوں میں عالمی امن یا عالمی انتشارکا فیصلہ کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: روس اور یوکرین عالمی نظام عالمی طاقت اور انسانی یوکرین کی نہیں بلکہ کے درمیان یوکرین کے طاقت کے یہ سوال غزہ کے کی جنگ جا رہی رہی ہے کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار