Express News:
2026-07-24@00:55:01 GMT

اقوامِ متحدہ کا کشکول خالی ہے

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

اس دنیا کی سفاکیوں اور خود غرضیوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اقوامِ متحدہ کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔دنیا نے دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے ڈر کر اکیاسی برس پہلے بڑے ارمانوں سے جو ادارہ بنایا اسے رفتہ رفتہ اپنے حال پر چھوڑ دیا۔اب یہ نوبت ہے کہ سب سے بڑی عالمی تنظیم شاہراہِ عالم پر کشکول لیے کھڑی ہے۔کوئی اس کشکول میں چند سکے ڈال دیتا ہے اور بہت سے منہ پھیر کے گزر جاتے ہیں اور کچھ تو حقارت سے تھوکتے ہوئے یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ ایک ہڈ حرام سفید ہاتھی ہے۔یہ ادارہ دنیا سے جنگیں ، بے گھری ، ماحولیاتی ابتری اور بھوک مٹانے کی بنیادی ذمے داریاں نبھانے میں بری طرح ناکام ہے۔اسے ری سٹرکچرنگ کی ضرورت ہے۔ہم کہاں تک اس بڑھیا کو گود میں اٹھائے اٹھائے گھومتے پھریں۔

مگر اس منافقانہ پروپیگنڈے کا پول دو برس پہلے ہی کھل گیا تھا جب اقوامِ متحدہ نے سال دو ہزار پچیس کے لیے اپنے ارکان سے چورانوے ارب ڈالر کی اصل ضرورت کو کم کر کے صرف سینتالیس ارب ڈالر انسانی امداد کی مد میں طلب کیے۔پھر بھی بارہ ارب ڈالر ہی میسر آ سکے۔یہ رقم ایک چوتھائی عالمی انسانی ضروریات کے لیے بھی ناکافی تھی۔

 اس بے حسی کو دیکھتے ہوئے رواں برس کے لیے اقوامِ متحدہ نے صرف تئیس ارب ڈالر چندے کی درخواست کی ہے تاکہ دنیا کے سب سے زیادہ ابتر خطوں کے لوگ کم ازکم جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔باقی مصیبت زدگان اوپر والے کے حوالے۔

اقوامِ متحدہ کو بیشتر امداد یورپ اور امریکا سے ملتی ہے۔مگر حالیہ برسوں میں ان مغربی مخیر ممالک نے مختلف حیلوں بہانوں سے خاصی حد تک ہاتھ کھینچ لیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے کے سربراہ ٹام فلیچر کے بقول ’’ ہمیں پیسہ نہیں مل رہا اور ہمارے بازوعالمی انسانی ذمے داریاں نبھاتے نبھاتے شل ہو چکے ہیں۔ ہمارے امدادی اہلکار دنیا بھر میں مسلح حملے بڑھنے کے سبب خود کو پہلے سے زیادہ غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔پھر بھی ہم انسانیت کو آگ سے نکالنے کے لیے ایمبولینس سروس چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب کہا جا رہا ہے کہ آگ بجھانا بھی ہماری ہی ذمے داری ہے۔مگر ہم کریں تو کیا کریں ؟ آگ بجھانے کے لیے ہمیں مطلوبہ پانی بھی نہیں مل رہا اور گولیاں بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہیں ‘‘۔

ٹام فلیچر کے مطابق اس وقت دنیا میں ستاسی ملین وہ لوگ ہیں جن کی زندگی براہِ راست خطرے میں ہے۔حالانکہ ہم چاہتے ہیں کہ موت و زندگی کے درمیان معلق ایک سو پینتیس ملین دیگر لوگوں کی مدد بھی کر سکیں مگر اس کے لیے درکار تینتیس ارب ڈالر کون دے گا۔

اس لمحے اگر اقوامِ متحدہ تمام انسانی سرگرمیاں ترک بھی کر دے تب بھی غزہ اور مغربی کنارے کے تیس لاکھ لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے اسے دو ہزار چھبیس میں کم ازکم چار ارب ڈالر درکار ہیں۔

دوسرے نمبر پر سوڈان کی خانہ جنگی کے ڈسے لگ بھگ دو کروڑ دربدر لوگ ہیں۔ان کے فوری بچاؤ کے لیے تقریباً تین ارب ڈالر کی اشد ضرورت ہے۔ تیسرے نمبر پر شام کے اندر اور باہر موجود چھیاسی لاکھ پناہ گزینوں کے لیے دو اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر چاہئیں۔

عالمی برادری کی امدادی بے حسی کے سبب اقوامِ متحدہ فی الحال باقی دو سو چالیس ملین لوگوں کے لیے ہنگامی امداد مانگنے سے ڈر رہی ہے جنھیں موسمیاتی تبدیلیوں ، قدرتی آفات اور وباؤں نے کہیں کا نہ رکھا ۔ٹام فلیچر کا کہنا ہے کہ اب تو نوبت یہ آ گئی ہے کہ اقوامِ متحدہ کے رکن امیر ممالک کا رویہ دیکھ کر ہم سول سوسائٹی ، کارپوریٹ دنیا اور عام مخیر حضرات کے آگے بھی کشکول پھیلانے کا سوچ رہے ہیں۔ایسا پچھلے اسی برس میں کبھی نہیں ہوا۔

اقوامِ متحدہ کی عالمی امن اور فلاح کی سرگرمیاں ارکان کے چندے کی مرہونِ منت ہیں۔ہر رکن ملک پر ایک خاص شرح سے چندہ دینا لازم ہے۔اس کا تعین رکن ملک کی قومی آمدنی ، آبادی ، قرضوں کے بوجھ ، معیارِ زندگی وغیرہ کو مدِ نظر رکھ کے ایک فارمولے کے تحت کیا جاتا ہے۔ ایک درجن سے زائد امیر ممالک کی امداد ادارے کے کاموں کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے۔

تاہم اس وقت اقوامِ متحدہ کو واجب الادا چندے کی مد میں لگ بھگ تین ارب ڈالر کا خسارہ درپیش ہے۔ امریکا کے ذمے ڈیڑھ ارب ڈالر کے بقایا جات ہیں۔نادہندگان کی فہرست میں چین ، سعودی عرب ، روس ، میکسیکو اور وینزویلا بھی شامل ہیں۔

امریکا گزشتہ برس تک اقوامِ متحدہ کے کل بجٹ کا اکتیس فیصد بھرتا آیا ہے۔اس کے بعد جرمنی اقوامِ متحدہ کے بجٹ میں دس فیصد ، برطانیہ سات فیصد اور چین پانچ فیصد حصہ ڈالتا ہے۔دیگر ارکان بشمول یورپی یونین و جاپان تنظیم کے بجٹ کا بقیہ سینتالیس فیصد پورا کرتے ہیں۔مگر اب ان کلیدی چندہ دھندگان نے بھی ٹال مٹول شروع کر دی ہے۔

چنانچہ اقوامِ متحدہ اپنی بڑھتی ہوئی عالمی ذمے داریوں مگر کمزور مالی حالات کے سبب بری طرح ہانپ رہا ہے۔اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیموں مثلاً عالمی ادارہِ خوراک ( ایف ڈبلیو او ) ، عالمی ادارہِ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) ، ادارہ برائے پناہ گزیناں ( یو این ایچ سی آر ) ، ادارہ برائے اطفال ( یونیسف ) ، ادارہ برائے تعلیم و ثقافت ( یونیسکو ) ، انسانی حقوق کونسل ، عالمی عدالتِ انصاف و جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت اور امن فوج کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر اور اچانک پالیسیوں کے سبب اقوامِ متحدہ کے لیے امریکی امداد اکتیس فیصد سے گھٹ کر دو ہزار چھبیس کے لیے پندرہ اعشاریہ چھ فیصد تک آ گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اعلی اہلکار ٹم فلیچر مزید کہتے ہیں کہ ایک جانب تو ادارے کی مالی حالت گھمبیر ہے اور دوسری جانب مغربی ممالک میں دائیں بازو کی قوتیں عام آدمی کو یہ تاثر دینے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہیں کہ تمہارے ٹیکسوں کو امداد کے نام پر لٹایا اور ضایع کیا جا رہا ہے۔ٹم فلیچر نے طنز کیا کہ جو دنیا اسلحے کی خریداری پر سالانہ دو اعشاریہ سات ٹریلین ڈالر خرچ کر رہی ہے وہی دنیا اس خرچے کا محض ایک فیصد بھی اقوامِ متحدہ کو فراہم نہیں کر پا رہی۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ارب ڈالر متحدہ کے کے سبب ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر  کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔

اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی