پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026ء جاری کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260210-01-9
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026ء کا اجراء کر دیا گیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ 135 اداروں میں 600 سے زاید گورننس اصلاحات ہوئیں۔ریفارمز رپورٹ ورلڈ اکنامک فورم کے کنٹری پارٹنر انسٹیٹوٹ مشعل پاکستان نے تیار کی۔ رپورٹ کے مطابق گورننس اصلاحات کی منظم دستاویز بندی کی گئی ہے، دوسرے ایڈیشن میں 660 اصلاحات ریکارڈ کی گئیں، اصلاحات 135 وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور منسلک اداروں پر محیط ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اصلاحات کے حجم میں 5 گنا اضافہ ہوا، پالیسیز طویل المدتی ریاستی صلاحیت کی تعمیر کی جانب منتقل ہو چکی ہے، توانائی کا شعبہ مجموعی اصلاحاتی سرگرمیوں کا تقریباً 40 فیصد حصہ ہے، قانون و انصاف، ڈیجیٹل گورننس اور آئی ٹی کے شعبے نمایاں ہیں، رجحان ساختی اور ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب مضبوط جھکاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق 200 سے زاید اصلاحات اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نافذ کی جا چکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔