بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلم تشخص ختم کرنے کے درپے ہے‘ جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260210-01-18
لاہور(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بڑھتی ہوئی بھارتی دہشت گردی اور ریاست کے مسلم تشخص کو ختم کرنے کے لیے پے درپے اقدامات کی پرزور مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلامی سربراہی کانفرنس کا اعلیٰ سطحی اجلاس اسلام آباد میں منعقد کرتے ہوئے بھارت کے خلاف بین الاقوامی سفارتی صف بندی کی جائے اور پاکستان کی بطور غیر مستقل ممبر سلامتی کونسل نشست کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سلامتی کونسل میں مسئلے کو زیربحث لانے کاخصوصی اہتمام بھی کیا جائے۔مجلس شوریٰ نے کسان بورڈ پاکستان کی جانب سے کسانوں اور زراعت کی بہتری کے لیے مطالبات اور نئے بجٹ کے لیے تجاویز کی بھی متفقہ قرارد اد کی صورت میں منظوری دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق مرکزی مجلس شوریٰ کے منصورہ میں جاری اجلاس کے دوسرے روز مسئلہ کشمیر پر متفقہ قرارداد میں شدید تشویش کااظہار کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کی بھارتی ریاستی دہشت گردی پر جامع رپورٹس کے باوجود بھارتی قابض افواج نے کالے قوانین کی آڑ میں کشمیری مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیاہے۔جماعت اسلامی اور دیگر حریت پسند تنظیموں سے وابستہ افراد کے گھر گرائے جا رہے ہیں۔محمد یاسین ملک،شبیر احمدشاہ،ڈاکٹر عبدالحمید فیاض،مسرت عالم،آسیہ اندرابی اور ان کے ہمراہ دیگر درجنوں خواتین صف اول کی حریت پسند قیادت پر دہلی کی تہاڑ جیل میں بدترین سلوک کیا جارہا ہے۔ اردوزبان جومہاراجا کے دور سے ریاستی اور سرکاری زبان چلی آ رہی ہے،کو دیس نکالا دے کر ہندی کو بالجبر نافذ کیاجارہا ہے۔تمام ریاستی ادارے ختم کرتے ہوئے انتظامی اہلکاران کا دہلی سے براہ راست تقرر ہو ر ہا ہے، تاریخی مساجد کومندر ثابت کرکے گرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مجلس شوریٰ نے بھارتی اقدامات کی مذمت کی ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ معرکہ حق کے بعد اللہ کی تائید ونصرت سے پاکستان کو جو بھارت پر بالادستی ملی جس کے نتیجے میں ملک کاوقار بلندہوا،اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کشمیریوں کا حق مزاحمت بحال کرتے ہوئے مجاہدین کی بھرپور مدد کرے۔ بھارتی مسلمانوں،سکھوں،دلتوں،عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے پس منظر میں آرایس ایس کے انسانیت اورمسلم دشمن ایجنڈے کو بے نقاب کیاجائے۔ریاست کے آزاد خطوں آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات کے ذریعے با اختیار اور باوسائل نظام دیا جائے جومثالی کارکردگی کے ساتھ تحریک آزادی کشمیر کے حقیقی بیس کیمپ کا کردار ادا کرسکے۔مزیدبرآں زراعت اور کسانوں کو درپیش مسائل پر متفقہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال 2025 بھی کسانوں کے لیے معاشی طور پر مشکل ترین رہا۔ زرعی اعداد و شمار کے مطابق زرعی معاشی ترقی 0.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے کیا جائے گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔