الینوائے:– جہاں وسیع میدانوں کی ہریالی، شیکاگو کی آسمان چھوتی عمارتیں، زرعی دولت، مالیاتی طاقت، صنعتی میراث، ثقافتی تنوع، اور اب تیزی سے ابھرتی ٹیکنالوجی کی دنیا ایک ایسی ریاست تخلیق کرتی ہے جو امریکہ کے “دل” کی حقیقی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ ریاست، جو “لنکن کی ریاست” بھی کہلاتی ہے، آج جدت، فنون لطیفہ، کھیل، معاشی استحکام، اور سیر و تفریح کی نئی بلندیوں پر ہے۔ WhatsAppFacebookTwitter 0 9 February, 2026 سب نیوز

الینوائے (شاہ خالد خان، ریزیڈنٹ ایڈیٹر یو ایس اے)

تصور کریں… آپ شیکاگو کے ملیئنیم پارک میں کھڑے ہیں، جہاں مشہور کلاؤڈ گیٹ (دی بین) کی چمکدار سطح میں شہر کی اونچی عمارتیں اور آسمان کا عکس جھلکتا ہے۔ ہب ٹاور کی شیشے کی عمارتیں روشنیوں سے جگمگاتی ہیں، میگنفسنٹ مائل کی شاپنگ، ریسٹورنٹس اور لائٹس رات کو جادوئی منظر پیش کرتی ہیں۔ نیوی پیئر پر لیک مشی گن کی نیلی لہریں، شیکاگو ریور کی واک، اور آرکیٹیکچرل بوٹ ٹور شہر کی تاریخی اور جدید عمارتوں کی دلچسپ کہانیاں سناتے ہیں۔

شیکاگو کی آرٹ اور کلچر کی دنیا بے مثال ہے: آرٹ انسٹی ٹیوٹ آف شیکاگو دنیا کے بہترین میوزیمز میں شمار ہوتا ہے جہاں ون گوگ، مونیٹ اور دیگر ماسٹر پیسز موجود ہیں۔ سیکنڈ سٹی کا مزاحیہ تھیٹر جہاں بہت سے مشہور کامیڈینز (جیسے بل مرے، اسٹیفن کولبرٹ) نے آغاز کیا۔ گرینٹ پارک میں Lollapalooza جیسے میوزک فیسٹیولز، اور رگلی فیلڈ میں شیکاگو کیوبز کی تاریخی بیس بال روایت۔

سیر و تفریح کی نئی جہتیں: الینوائے میں شیکاگو سے باہر بھی بے شمار دلچسپ مقامات ہیں جو فطرت پسندوں اور ایڈونچر سیکرز کو بلاتے ہیں۔ سٹاروید راک سٹیٹ پارک کی گہری وادیاں، آبشاریں اور پیدل چلنے کے راستے۔ شاو نی نیشنل فاریسٹ کے پہاڑی راستے، جھیلوں اور غاروں میں کیمپنگ اور ہائیکنگ۔ گیلیگن کے جنگلات، مورٹن آر بوریٹم کی خوبصورت باغات، بروک فیلڈ زو جہاں جانوروں کی دنیا قریب سے دیکھی جا سکتی ہے، اور چکاگو بوٹینک گارڈن کے 24 سے زائد تھیمڈ گارڈنز۔ جنوبی الینوائے کا گیارڈن آف دی گاڈز قدرتی چٹانوں کی حیرت انگیز تشکیلات پیش کرتا ہے، جبکہ انڈیانا ڈیونز نیشنل پارک (قریب) اور فرانک لائیڈ رائٹ کی پرےری طرز کی عمارتیں (اوک پارک) تاریخی اور فن تعمیر کی محبت کرنے والوں کے لیے جنت ہیں۔ یہ سب الینوائے کو “Middle of Everything” بناتے ہیں – جہاں شہری چمک اور دیہی سکون ایک ساتھ ملتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کی ابھرتی ہوئی طاقت: الینوائے، خاص طور پر شیکاگو، اب ایک بڑھتا ہوا ٹیک ہب ہے۔ *فن ٹیک، **بائیو ٹیک، **کوآنٹم کمپیوٹنگ، اور *سافٹ ویئر میں جدت کی لہر دوڑ رہی ہے۔ کمپنیاں جیسے *تسٹی ٹریڈ، **ماسٹر کارڈ، **کیپیٹل ون، اور *نینجا ٹریڈر یہاں موجود ہیں۔ اسٹارٹ اپس جیسے *زیرو ہیش، **کن انشورنس، *پورٹل انوویشنز (بائیو ٹیک فنڈنگ میں $100 ملین)، اور انفلیکشن (کوآنٹم کمپیوٹنگ) ریاست کو مستقبل کی طرف لے جا رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف شیکاگو اور نارتھ ویسٹرن کی تحقیق، الکیمسٹ ایکسلریٹر جیسے پروگرامز، اور نئی الینوائے کوآنٹم مائیکرو الیکٹرانکس پارک ٹیک انڈسٹری کو مزید فروغ دے رہے ہیں۔ 2026 میں شیکاگو کا ٹیک منظر *ڈیپ ٹیک، **فن ٹیک، اور *ہیلتھ ٹیک میں امریکہ کے ٹاپ سینٹرز میں شمار ہو رہا ہے۔

الینوائے امریکہ کی چھٹی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے۔ جولائی 2025 تک آبادی تقریباً 12.

72 ملین (یو ایس سینسس Vintage 2025 تخمینہ: 12,719,141)، جو حالیہ برسوں میں تیسری بار مسلسل اضافہ دکھا رہی ہے (2024 سے 2025 تک 16,108 افراد کا اضافہ، 2022 سے اب تک 100,000+ کا مجموعی اضافہ)۔ جی ایس پی تقریباً $1 ٹریلین سے زائد۔

معیشت متنوع، طاقتور اور جدید ہے:

فنانس اور بزنس – شیکاگو بورڈ آف ٹریڈ اور مرکنٹائل ایکسچینج دنیا کے بڑے مالیاتی مراکز۔ ٹیک اور انوویشن – فن ٹیک، کوآنٹم، بائیو ٹیک اسٹارٹ اپس کا مرکز۔ مینوفیکچرنگ – مشینری، فوڈ پروسیسنگ، فارماسیوٹیکلز۔ زراعت – مکئی، سویا بین، سور کی پیداوار میں صف اول۔ سیاحت – 2024 میں 113 ملین سیاح (ریکارڈ)، $48.5 بلین وزٹر اسپینڈنگ، مجموعی معاشی اثر *$85.1 بلین، *454,455 نوکریاں، اور $6.8 بلین سٹیٹ اور لوکل ٹیکس ریونیو (2025 میں بھی مسلسل اضافہ)۔ ٹرانسپورٹیشن – شیکاگو امریکہ کا سب سے بڑا ریل، ایئر اور لوجیسٹکس ہب۔ تعلیم اور ہیلتھ کیئر – بہترین ادارے۔

میڈین ہاؤس ہولڈ انکم تقریباً $83,390 (تازہ ترین)۔

*تاریخ، **تعلیم، **کھیل، اور *تنوع کی جھلکیاں وہی ہیں جو پہلے بیان کی گئیں – پاکستانی کمیونٹی ڈیون ایونیو (“لیٹل انڈیا/پاکستان”) میں فعال، حلال فوڈ، مساجد، اور بزنس میں نمایاں۔

پچھلے کالموں میں دیگر ریاستوں کی روح دیکھی – آج الینوائے کی Prairie روح محسوس کریں، جو محنت کش لوگوں، جدت، تنوع، ٹیکنالوجی کی نئی لہر، اور سیر و تفریح کی بے پایاں خوبصورتی کی علامت ہے۔

اگر ابھی تک نہیں دیکھا تو اب ضرور چلیں – شیکاگو کی چمک، دی بین کا عکس، لیک مشی گن کی لہریں، پرری کے کھیتوں کی وسعت، شاو نی کے جنگلات، ٹیک کی ابھرتی دنیا، اور محسوس کریں ایک ایسی ریاست کی دھڑکن جو امریکہ کو جوڑے رکھتی ہے۔

الینوائے کو سلام – اس کی Prairie روح، شاندار شہر، زرعی اور مالیاتی طاقت، اعلیٰ تعلیم، ٹیکنالوجی کی جدت، ریکارڈ توڑ سیاحت، اور متنوع کمیونٹیز کے لیے جو اسے سچا امریکن دل بناتے ہیں۔

ایک بار دل لگائیں گے تو Prairie State آپ کے دل میں ہمیشہ کے لیے بس جائے گی – اور آپ کہیں گے: “میں الینوائے جا چکا ہوں… اور وہ مجھ میں سانس لیتی ہے۔”

(شاہ خالد خان – ایک پاکستانی دل، امریکہ کی روح، اردو کی آواز اور ڈیلی سب نیوز کا فخریہ نمائندہ)

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرانٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل تھائی طلبہ کے اعزاز میں تقریب ایک تاریخی دورہ: ازبکستان اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے نئے افق فلوریڈا: سورج کی ریاست – جہاں ہر صبح سنہری دھوپ نئی امید اور تازگی کا احساس دل میں اترتی ہے، سفید ریتلے ساحل پر... کیلیفورنیا: گولڈن سٹیٹ – جہاں خواب نہ صرف حقیقت بنتے ہیں بلکہ ہر لمحہ نئی توانائی، جدت اور سکون کا احساس دل میں اترتا... (شاہ خالد خان – ایک پاکستانی دل، امریکہ کی روح، اردو کی آواز اور ڈیلی سب نیوز کا فخریہ نمائندہ) قازقستان کے صدر کا پاکستان کو اسٹریٹجک شراکت دار قرار ازبکستان اور پاکستان: وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان صنعتی اور سرمایہ کاری راہداری کی تشکیل TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سیر و تفریح کی ٹیکنالوجی کی کی دنیا کرتی ہے کی نئی

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار