12 فروری شہدا کے خون کا قرض اتارنے کا دن ہے‘ڈاکٹر شفیق الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا(صباح نیوز)بنگلا دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا ہے کہ 12 فروری شہدا کے خون کا قرض اتارنے کا دن ہے۔ جو لوگ عوامی امنگوں سے غداری کریں گے تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔ نئے بنگلا دیش میں قانون سب کے لیے برابر ہوگا، چاہے مجرم عام شہری ہو یا صدر و وزیر اعظم۔ لوٹی گئی قومی دولت جو بیرونِ ملک منتقل کی گئی، اسے واپس لانے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی۔ عوام کی جان، مال اور عزت کی حفاظت ریاست کی اولین ذمے داری ہوگی۔ منتخب نمائندوں کو ہر سال اپنے اور اپنے خاندان کے اثاثے عوام کے سامنے پیش کرنا ہوں گے۔پورا بنگلا دیش بیدار ہو چکا ہے اور نوجوانوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ پرانے بندوبست اور بوسیدہ سیاست کے ساتھ نہیں ہیں۔ قوم ایک نیا بنگلا دیش دیکھنا چاہتی ہے، جہاں انصاف، شفافیت اور عوامی بالادستی ہو۔وہ تیرھویں قومی پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں دارالحکومت ڈھاکا کے میرول بڈا کے ڈی آئی ٹی میدان میں ڈھاکا11 کے حلقے میں 11 جماعتی انتخابی اتحاد کے جلسے سے بطورِ مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ اس حلقے سے نیشنل سٹیزن پارٹی کے کنوینر ناہید اسلام امیدوار ہیں۔ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ بنگلا دیش میں نئی سیاست کے ابھرنے کا وقت آ چکا ہے اور 12 فروری کو عوام اپنا فیصلہ سنائیں گے۔ عوام کرپٹ عناصر، بھتا خوروں، قبضہ گروپوں اور سامراجی غلاموں کو ریڈ کارڈ دکھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آبرار فہاد، ابو سعید اور ہادی جیسے نوجوانوں کے ہم مقروض ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اگر عوام نے موقع دیا تو ان کے خوابوں کا باوقار اور روشن بنگلا دیش تعمیر کریں گے۔ یہ ملک ہم نوجوانوں کے ہاتھوں میں دینا چاہتے ہیں، ہم بے روزگاری الاؤنس نہیں بلکہ باعزت روزگار دینا چاہتے ہیں۔ نوجوانوں نے کبھی خیرات نہیں مانگی بلکہ اپنے جائز حقوق اور کام کا مطالبہ کیا۔امیر جماعت نے کہا کہ 1947 اور 1971 کے بعد 2024 میں عوامی امنگوں کا ایک نیا اظہار سامنے آیا۔ کوٹہ اصلاحات کی تحریک نوجوانوں کا سادہ اور جائز مطالبہ تھا، لیکن اسے طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں معصوم جانوں کی قربانیاں ہوئیں۔ انہوں نے ابو سعید کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس نے سینے پر گولیاں کھا کر تاریخ رقم کی۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ دہائیوں کے مظالم کے بعد کچھ لوگ مظلوم سے ظالم بن گئے اور بھتا خوری، قبضہ گیری اور مقدمہ بازی شروع کر دی گئی۔ آج تاجر سے لے کر فٹ پاتھ پر بیٹھے بھکاری تک سب اس ظلم کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ عوام کی جدوجہد کا مقصد’’ہم انصاف چاہتے ہیں‘‘ تھا۔ اگر کوئی جماعت واقعی کرپشن کے خاتمے کی دعویدار ہے تو اسے اپنے گھر سے آغاز کرنا ہوگا۔ بینک لوٹنے والوں اور قرض نادہندگان کو تحفظ دے کر کرپشن فری ملک نہیں بنایا جا سکتا۔ خواتین کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماں، بہن اور بیٹی کی عزت و سلامتی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے گا۔ نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ملک کی ذمے داری سنبھالنے کے لیے تیار ہو جائیں، کیونکہ وہی بنگلا دیش کو درست منزل کی طرف لے جائیں گے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر انصاف پر مبنی بنگلا دیش کے حق میں عوامی فیصلہ آیا تو ناہید اسلام کو وزیر کے طور پر دیکھیں گے اور سب مل کر ایک ظلم، کرپشن، بھتا خوری اور ناانصافی سے پاک، انسانی اور منصفانہ بنگلا دیش کی تعمیر کے لیے آگے بڑھیں گے۔
ڈھاکا: امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن میرول بڈا ڈی آئی ٹی میدان میں انتخابی جلسے سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر شفیق الرحمن انہوں نے کہا کہ بنگلا دیش کے لیے
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔