نیپرا نے نیٹ میٹرنگ صارفین کیلئے نئی ریگولیشن کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260210-08-8
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)نیشنل الیکٹرک پاور لیگولیٹری اتھارٹی نیپرا نے نیٹ میٹرنگ صارفین کیلئے نئی ریگولیشن کی منظوری دیدی۔نیپرا نے نیٹ میٹرنگ ریگولیشن 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نئے ریگولیشنز کے تحت نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کروا دیا گیا۔ نئی نیٹ میٹرنگ ریگولریشنز کا اطلاق بائیو گیس صارفین پر بھی ہوگا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین سے نیشنل ایوریج انرجی پرائس کے مطابق بجلی خریدی جائے گی، نیٹ میٹرنگ صارفین کو موجودہ ٹیرف کے حساب سے بجلی فرام کی جائے گی، نیشنل گرڈ کو اضافی بجلی کی فراہمی صارفین کو سہہ ماہی بنیادوں پر ادائیگی کی جائے گی۔ بلنگ سائیکل کے اختتام پر بلنگ نظام کے تحت بل جاری ہوگا، نیٹ میٹرنگ کیلیے معاہدے کی مدت 5 سال تک محدود کردی گئی ہے۔ معاہدے کی خاتمے کے بعد تجدید ممکن ہوسکے گی، نئی نیٹ میٹرنگ ریگولیشن کے بعد سابقہ 2015 کی ریگولیشن معطل ہو جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیٹ میٹرنگ صارفین
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔