عاصمہ جہانگیر کانفرنس‘ جرمن سفیر کو اسرائیلی مظالم پر سخت سوالات کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (صباح نیوز) عاصمہ جہانگیر کانفرنس اس وقت میدانِ جنگ بن گئی جب جرمنی کے سفیر الفریڈ گراناس (Alfred Grannas) معذور افراد کے حقوق (Disability Rights) کے موضوع پر خطاب کرنے کے لیے اسٹیج پر آئے۔ جیسے ہی انہوں نے گفتگو کا آغاز کیا، ہال میں موجود نوجوانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے نعرے بازی شروع کر دی اور ان کے خطاب میں خلل ڈالا۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ جرمنی ایک طرف اسرائیل کو بھاری مقدار میں اسلحہ فراہم کر رہا ہے، جس سے غزہ میں ہزاروں بچے اور مرد و خواتین معذور اور شہید ہو رہے ہیں اور دوسری طرف ان کا سفیر پاکستان میں آ کر معذوروں کے حقوق پر ”لیکچر” دے رہا ہے۔ ایک نوجوان نے پکار کر کہا کہ”غزہ میں کئی ہزار لوگ آپ کے ملک کے دیے ہوئے اسلحے سے معذور ہوئے اور آپ یہاں ہمیں بھاشن دے رہے ہیں؟”جرمن سفیر نے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی اور کہا کہ اگر آپ شور مچائیں گے تو مکالمہ نہیں ہو سکے گا، تاہم احتجاج اس قدر شدید تھا کہ انہیں اپنا خطاب مختصر کرنا پڑا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب عالمی سطح پر جرمنی کے اسرائیل نواز مؤقف پر تنقید کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا ایکس کے ایک صارف سلیمان احمد نے جرمن سفیر کے خلاف احتجاج کی وڈیو بھی شیئر کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔