data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (رپورٹ: محمد علی فاروق) سرجانی ٹاؤن میں قانون کی عملداری ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی ہے جہاں خدا کی بستی، تیسر ٹاؤن، یارو گوٹھ اور سیون ڈی و سیون اے کے درمیانی علاقوں میں مبینہ طور پر جوئے اور سٹے کا منظم کاروبار کھلے عام جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ غیر قانونی سرگرمیاں ہوٹلوں کی آڑ میں دن ڈھلتے ہی شروع ہوجاتی ہیں اور رات گئے دو بجے تک بلا خوف و خطر چلتی رہتی ہیں۔ مقامی مکینوں اور باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ گجر ہوٹل، مدینہ ہوٹل اور رزاق ہوٹل ایسے مراکز بن چکے ہیں جہاں باقاعدہ جوئے اور سٹے کی محفلیں سجتی ہیں۔ مخصوص اوقات میں مشکوک افراد کی آمد و رفت معمول بن چکی ہے جبکہ عام گاہکوں کی آڑ میں بیٹنگ اور آن لائن و موبائل سٹے کے معاملات انجام دیے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس مبینہ نیٹ ورک کو چلانے میں گڈو اور کاشف نامی افراد کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں جو مختلف پوائنٹس پر رقم اکٹھی کرنے، بیٹ لگوانے اور آن لائن سسٹم کو منظم کرتے ہیں تاہم اس تمام صورتحال پر علاقہ پولیس کی جانب سے تاحال کوئی واضح تردید یا مؤثر کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ جوئے اور سٹے کے بڑھتے رجحان نے نوجوان نسل کو تیزی سے جرائم کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ گھریلو جھگڑوں، چوری، ڈکیتی اور دیگر سماجی برائیوں میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی خاموشی نے جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے مزید بلند کر دیے ہیں اور یہ سب کچھ کسی نہ کسی سرپرستی کے بغیر ممکن نظر نہیں آتا۔یہ پہلا موقع نہیں کہ کراچی پولیس پر سنگین الزامات سامنے آئے ہوں۔ ماضی میں شہر کے مختلف اضلاع میں منشیات فروشی، بھتا خوری اور جوئے کے اڈوں کی سرپرستی میں ملوث متعدد پولیس اہلکار گرفتار، معطل اور بعض کو سزائیں بھی دی جا چکی ہیں۔ کئی ہائی پروفائل کیسز میں اہلکاروں کو نوکریوں سے برطرف کیا گیا جبکہ بعض کو عدالتوں سے قید اور جرمانوں کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان واقعات نے پولیس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا اور عوامی اعتماد کو متزلزل کیا۔ علاقہ مکینوں کا الزام ہے کہ ماضی میں شکایات کے بعد ہونے والی پولیس کارروائیاں محض وقتی ثابت ہوئیں۔ چند دن کی خاموشی کے بعد یہی اڈے دوبارہ فعال ہو گئے جس سے پولیس کی نیت اور کارکردگی پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیںتاہم شہریوں نے پولیس کے اعلیٰ افسران سے امیدیں وابستہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گجر ہوٹل، مدینہ ہوٹل اور رزاق ہوٹل سمیت تمام مشکوک مقامات پر خفیہ نگرانی، اچانک چھاپے اور مستقل کریک ڈاؤن کو یقینی بنایا جائے۔

محمد علی فاروق گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پولیس کی

پڑھیں:

گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی

گھوٹکی میں ڈہرکی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا گیا۔ 

ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ جہانگیر شر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور قبیلے لوگوں نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔

انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیس نے مقابلے کے بعد بازیاب کروا لیا تاہم اس دوران ملزمان فرار ہوگئے۔ 

ایس ایس پی گھوٹی کا کہنا تھا کہ اغواکاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے، ملزمان کا تعلق بھی شر قبیلے سے ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار