جیکب آباد، ایم سی ایچ سینٹر کی سروس ختم ، حکومتی دعوے دم توڑ گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جیکب آباد (نمائندہ جسارت) جیکب آباد میں شہید بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب ایم سی ایچ سینٹر کی 24 گھنٹے سروس ختم، زچگی جیسی بنیادی سہولت بھی بند، حکومتی دعوے دم توڑ گئے۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی قائد شہید بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ (MCH) سینٹر، جو کبھی علاقے کی خواتین اور نومولود بچوں کے لیے زندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج محکمہ صحت کی مجرمانہ غفلت کا شکار ہو کر محض 6 گھنٹے کا کلینک بن چکا ہے۔ڈبلیو ایچ او، یونیسیف اور آغا خان فاؤنڈیشن کے تعاون سے چلنے والا یہ ادارہ ماضی میں 24 گھنٹے بلا تعطل سروس فراہم کرتا تھا، مگر افسوسناک طور پر جولائی 2024ء سے یہ سروس بند ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ادارے میں زچگیاں برسوں سے بند کر دی گئی ہیں، حالانکہ لیڈی ڈاکٹرز اور طبی عملہ کاغذوں میں تاحال تعینات ہیں۔ شہریوں کے مطابق ایک ایسا ادارہ جو حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کے لیے بنایا گیا تھا، وہاں زچگی کی سہولت کا بند ہونا نہ صرف انتظامی ناکامی بلکہ کھلی نااہلی اور عوام دشمن پالیسی کا ثبوت ہے۔ خواتین کو مجبوراً نجی اسپتالوں یا دور دراز شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے غریب خاندانوں پر مالی اور ذہنی بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سندھ میں معیاری صحت سہولیات کے دعوے بر عکس جیکب آباد میں تو موجودہ سہولیات بھی چھین لی گئی ہیں۔ شہید بی بی کے نام سے منسوب ادارے کا یہ حال پارٹی کے نعروں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔شہریوں نے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو سے فوری نوٹس لینے، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی اور ایم سی ایچ سینٹر میں 24 گھنٹے سروس اور زچگی کی سہولت بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب، شہید بینظیر ایم سی ایچ سینٹر کے انچارج ڈاکٹر ریاض نے رابطے پر تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ادارہ پہلے ڈبلیو ایچ او، یونیسیف اور آغا خان کے تعاون سے 24/7 سروس دیتا تھا، جو جولائی 2024ء سے بند ہے۔ ان کے مطابق اس وقت ادارے میں الٹراساؤنڈ، ملیریا ٹیسٹ اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ زچگی کے کیسز آنے پر آپریشن بھی کیے جاتے ہیں، تاہم سروس کا دورانیہ صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک محدود ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایم سی ایچ سینٹر جیکب ا باد
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔