Jasarat News:
2026-07-23@23:28:20 GMT

پیما نے میڈیکل و ڈینٹل داخلوں کے معیار کی تجویز مسترد کردی

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(جسارت نیوز) پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) نے میڈیکل اور ڈینٹل داخلوں کے معیار میں نظرِ ثانی کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ یہ تجویز نہ صرف میرٹ کے اصولوں سے متصادم ہے بلکہ طبی تعلیم کے موجودہ شفاف اور متفقہ نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔پیما کے مرکزی صدر پروفیسر عاطف حفیظ صدیقی نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ کا نصاب اور امتحان پورے ملک میں یکساں تھا اور مجموعی طور پر اس کے امتحانی عمل پر کوئی سنجیدہ اعتراض سامنے نہیں آیا، نہ ہی امتحان کے دوران بدعنوانی یا کرپشن کا واقعہ ہوا۔ یہ نظام تمام سٹیک ہولڈرز کے لیے قابلِ قبول رہا ہے، اس لیے طے شدہ ضابطوں کے تحت ہی طلبہ کو داخلے دیے جانے چاہییں۔ اگر اس مرحلے پر میرٹ کے معیار میں کمی کی گئی تو ایم ڈی کیٹ کا پورا نظام اپنی افادیت کھو دے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ داخلہ پالیسی میں میرٹ پر سمجھوتہ شفافیت، تعلیمی معیار، پیشہ ورانہ تربیت و مہارت اور مریضوں کے لیے قابل اور باصلاحیت ڈاکٹروں کی فراہمی کے عمل کو شدید نقصان پہنچائے گا، اور طبی تعلیم کو تجارتی مفادات کے تابع بنانے کا راستہ ہموار کرے گا۔ پیما میرٹ پر مبنی، یکساں اور شفاف داخلہ پالیسی کے سختی سے نفاذ کا مطالبہ کرتی ہے، جس میں کسی دباؤ یا مفاد کو دخل حاصل نہ ہو۔پیما حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غیر ضروری اور غیر منصفانہ تبدیلی کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دے، موجودہ داخلہ نظام کا تحفظ کرے اور ایسے فیصلوں سے گریز کرے جو میڈیکل ایجوکیشن کے معیار اور عوامی اعتماد کو مجروح کریں۔

جسارت نیوز گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے معیار

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی