پیما نے میڈیکل و ڈینٹل داخلوں کے معیار کی تجویز مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(جسارت نیوز) پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) نے میڈیکل اور ڈینٹل داخلوں کے معیار میں نظرِ ثانی کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ یہ تجویز نہ صرف میرٹ کے اصولوں سے متصادم ہے بلکہ طبی تعلیم کے موجودہ شفاف اور متفقہ نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔پیما کے مرکزی صدر پروفیسر عاطف حفیظ صدیقی نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ کا نصاب اور امتحان پورے ملک میں یکساں تھا اور مجموعی طور پر اس کے امتحانی عمل پر کوئی سنجیدہ اعتراض سامنے نہیں آیا، نہ ہی امتحان کے دوران بدعنوانی یا کرپشن کا واقعہ ہوا۔ یہ نظام تمام سٹیک ہولڈرز کے لیے قابلِ قبول رہا ہے، اس لیے طے شدہ ضابطوں کے تحت ہی طلبہ کو داخلے دیے جانے چاہییں۔ اگر اس مرحلے پر میرٹ کے معیار میں کمی کی گئی تو ایم ڈی کیٹ کا پورا نظام اپنی افادیت کھو دے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ داخلہ پالیسی میں میرٹ پر سمجھوتہ شفافیت، تعلیمی معیار، پیشہ ورانہ تربیت و مہارت اور مریضوں کے لیے قابل اور باصلاحیت ڈاکٹروں کی فراہمی کے عمل کو شدید نقصان پہنچائے گا، اور طبی تعلیم کو تجارتی مفادات کے تابع بنانے کا راستہ ہموار کرے گا۔ پیما میرٹ پر مبنی، یکساں اور شفاف داخلہ پالیسی کے سختی سے نفاذ کا مطالبہ کرتی ہے، جس میں کسی دباؤ یا مفاد کو دخل حاصل نہ ہو۔پیما حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غیر ضروری اور غیر منصفانہ تبدیلی کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دے، موجودہ داخلہ نظام کا تحفظ کرے اور ایسے فیصلوں سے گریز کرے جو میڈیکل ایجوکیشن کے معیار اور عوامی اعتماد کو مجروح کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے معیار
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔