ماتلی، گیس کی فراہمی کیلیے میگا پروجیکٹ شروع کرنیکا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی (نمائندہ جسارت)سدرن سئی گیس کمپنی (SSGC) نے ضلع بدین کے سب سے بڑے شہر ماتلی میں گیس کی فراہمی کو بہتر، محفوظ اور مستقل بنانے کے لیے 60 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک بڑے میگا پروجیکٹ کا آغاز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت شہر بھر میں 80 کلومیٹر طویل نئی گیس لائنیں بچھائی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق ماتلی شہر میں 1990ء کی دہائی میں بچھایا گیا گیس نیٹ ورک وقت گزرنے کے ساتھ خستہ حال اور ناکارہ ہو چکا ہے، جس کے باعث شہریوں کو لو پریشر اور گیس کی بندش جیسے سنگین مسائل کا سامنا رہا، جبکہ عوامی شکایات میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ انہی مسائل کے پیش نظر سدرن سئی گیس کمپنی نے ماتلی شہر میں پرانے گیس نیٹ ورک کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد سدرن سئی گیس کمپنی کے 5600 سے زائد صارفین کو بلا تعطل، معیاری اور مکمل گیس کی فراہمی ممکن ہو سکے گی اور شہریوں کو لو پریشر اور گیس کی عدم دستیابی جیسے مسائل سے مستقل نجات ملے گی۔ اس حوالے سے سدرن سوئی گیس کمپنی ماتلی کے ایس ڈی او محمد عظیم پہنور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی کی پالیسی کے مطابق صارفین کو محفوظ، معیاری اور مسلسل گیس کی فراہمی اولین ترجیح ہے، اسی لیے پرانی اور خستہ حال پائپ لائنوں کو جدید معیار کے مطابق تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ گیس لیکیج، پریشر میں کمی اور گیس کے ضیاع جیسے مسائل کا مستقل حل ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے پر کام جلد شروع کر دیا جائے گا اور اس دوران اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو اور گیس کی فراہمی متاثر نہ ہو، جبکہ سڑکوں کی کھدائی، پرانی پائپ لائنوں کی تبدیلی اور نئی لائنوں کی تنصیب کا عمل مرحلہ وار اور مکمل منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا جائے گا تاکہ شہری زندگی معمول کے مطابق جاری رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گیس کی فراہمی گیس کمپنی کے مطابق اور گیس
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔