Jasarat News:
2026-06-02@23:33:50 GMT

کندھکوٹ،کیڈٹ کالج کرمپورمیں یوم والدین منایا گیا

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کندھکوٹ(نمائندہ جسارت)کل8 فروری 2026ء کو کیڈٹ کالج کرمپور میں چوتھا سالانہ یومِ والدین نہایت جوش و خروش سے منایا گیا، جس میں کمشنر سکھر و لاڑکانہ عابد سلیم قریشی نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔اس تقریب میں معزز مہمانوں میں ڈپٹی کمشنر کشمور آغا شیرزمان خان، کرنل عامر حیات خان، پرنسپل کیڈٹ کالج خیرپور، پروفیسر جمیل احمد خاصخیلی، پروفیسر منظور احمد میرانی، پروفیسر وسیم خشک سمیت دیگر معزز شخصیات اور والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب میں چیمپئن پرچم کی تبدیلی، پریڈ کا معائنہ، مارچ پاسٹ و سلامی، پی ٹی شو، سندھ کی ثقافتی کھیل ملاکھڑا اور ثقافتی رقص سمیت کئی دلچسپ و دلکش پروگرام شامل تھے، جن میں کیڈٹس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے والدین اور معزز حاضرین سے خوب داد وصول کی۔پروگرام کے دوران کیڈٹ کالج کرمپور کے پرنسپل محمد ہاشم میمن نے مہمانِ خصوصی اور دیگر معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کالج کی سال بھر کی نمایاں کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ادارہ کئی حوالوں سے ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ کالج نے محنت، لگن اور عزم کے ساتھ اپنا ایک منفرد مقام بنایا ہے۔ قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں کرمپورین کیڈٹس کی کارکردگی قابلِ تحسین اور ادارے کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے کیڈٹس نہ صرف کالج کے اندر بلکہ ملک بھر کے معتبر اداروں کی جانب سے منعقدہ نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لے کر کالج کا نام روشن کر رہے ہیں۔تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی عابد سلیم قریشی نے صدارتی خطاب کیا، جس میں انہوں نے کیڈٹس کی بہترین کارکردگی کو سراہتے ہوئے پرنسپل اور اساتذہ کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک پسماندہ علاقے میں اس معیار کے تعلیمی و تربیتی ادارے کا قیام باعثِ فخر ہے، جہاں نوجوانوں کی صلاحیتیں والدین کے لیے خوشی اور فخر کا باعث بنتی ہیں۔کیڈٹ کالج کرمپور کے پرنسپل محمد ہاشم میمن نے مہمانِ خصوصی کو کالج کی جانب سے یادگاری شیلڈ (مومینٹو) بھی پیش کی۔پروگرام کے دوران مہمانِ خصوصی نے سائنس ایگزیبیشن کا دورہ بھی کیا اور بائیولوجی، کیمسٹری، فزکس، کمپیوٹر اور فائن آرٹس کے کیڈٹس کی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کو بھرپور سراہا۔ سائنس ایگزیبیشن کے دورے کے ساتھ ہی پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کیڈٹ کالج انہوں نے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا