خصوصی بچوں کیلیے کراچی چڑیا گھر میں مفت داخلے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے خصوصی بچوں کیلیے کراچی چڑیا گھر میں مفت داخلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں زو انتظامیہ کو فوری اور واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ خصوصی بچوں کیلیے چڑیا گھر کی انٹری فیس مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے تفریحی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔میئر کراچی نے کہا کہ خوشیوں اور تفریحی مواقع میں خصوصی بچوں کو شامل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ان کی تفریحی مقامات پر آمد باعثِ مسرت اور اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی بچے معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی تعلیم، تربیت اور فلاح کیلییاجتماعی کردار ادا کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی بچوں کے بہتر اور محفوظ مستقبل کیلییہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اور انہیں زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت بھی خصوصی بچوں کے لییروزگار‘ ہنرمندی اور آگاہی کے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خصوصی بچوں
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔