لیبیا: تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 2 بچوں سمیت 55 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
طرابلس (مانیٹرنگ ڈیسک) لیبیا کے ساحلی شہر زوارہ کے قریب تارکینِ وطن کی ایک کشتی سمندر برد ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں 2 بچوں سمیت 55 افراد ہلاک یا لاپتا ہوگئے ہیں انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن (IOM) کے مطابق یہ المناک حادثہ 6 فروری کو اس وقت پیش آیا جب غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی کشتی توازن برقرار نہ رکھ سکی۔لیبیائی حکام نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر شروع کیے گئے ریسکیو آپریشن کے دوران صرف نائجیریا سے تعلق رکھنے والی 2 خواتین کو زندہ بچایا جا سکا ہے، جبکہ بقیہ تمام مسافر سمندر کی بے رحم لہروں کی نذر ہو گئے۔ زندہ بچ جانے والی ایک خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ اس حادثے میں اس کا شوہر ڈوب گیا، جبکہ دوسری خاتون نے اپنے دو معصوم بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ متاثرہ خواتین کے مطابق، افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کو لے جانے والی یہ کشتی 5 فروری کی رات تقریباً 11 بجے لیبیا کے شہر الزاویہ سے روانہ ہوئی تھی۔ سفر کے تقریباً 6 گھنٹے بعد کشتی میں اچانک پانی بھرنا شروع ہوا اور وہ سمندر کے وسط میں الٹ گئی۔ واضح رہے کہ لیبیا کا ساحل یورپ کی تلاش میں نکلنے والے افریقی تارکین وطن کے لیے ایک خطرناک ترین راستہ بن چکا ہے جہاں ہر سال سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن