لیبیا: تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 2 بچوں سمیت 55 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260210-08-27
طرابلس (مانیٹرنگ ڈیسک) لیبیا کے ساحلی شہر زوارہ کے قریب تارکینِ وطن کی ایک کشتی سمندر برد ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں 2 بچوں سمیت 55 افراد ہلاک یا لاپتا ہوگئے ہیں انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن (IOM) کے مطابق یہ المناک حادثہ 6 فروری کو اس وقت پیش آیا جب غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی کشتی توازن برقرار نہ رکھ سکی۔لیبیائی حکام نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر شروع کیے گئے ریسکیو آپریشن کے دوران صرف نائجیریا سے تعلق رکھنے والی 2 خواتین کو زندہ بچایا جا سکا ہے، جبکہ بقیہ تمام مسافر سمندر کی بے رحم لہروں کی نذر ہو گئے۔ زندہ بچ جانے والی ایک خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ اس حادثے میں اس کا شوہر ڈوب گیا، جبکہ دوسری خاتون نے اپنے دو معصوم بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ متاثرہ خواتین کے مطابق، افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کو لے جانے والی یہ کشتی 5 فروری کی رات تقریباً 11 بجے لیبیا کے شہر الزاویہ سے روانہ ہوئی تھی۔ سفر کے تقریباً 6 گھنٹے بعد کشتی میں اچانک پانی بھرنا شروع ہوا اور وہ سمندر کے وسط میں الٹ گئی۔ واضح رہے کہ لیبیا کا ساحل یورپ کی تلاش میں نکلنے والے افریقی تارکین وطن کے لیے ایک خطرناک ترین راستہ بن چکا ہے جہاں ہر سال سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔