Juraat:
2026-06-02@22:07:32 GMT

سندھ بلڈنگ، کورنگی میں غیر قانونی تعمیرات کا پھیلتا سیلاب

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

سندھ بلڈنگ، کورنگی میں غیر قانونی تعمیرات کا پھیلتا سیلاب

ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی پر تعمیراتی مافیا سے ملی بھگت کے الزامات
پلاٹ ایل 815پر خطرناک کمزور عمارت تعمیر ،رہائشیوں میں خوف و ہراس

کورنگی میں غیرقانونی تعمیرات کا کاروبار عروج پر ہے جہاں افسران اور بلڈنگ مافیا کے درمیان گہرے تعلقات نے قانونی نظام کو مفلوج کر دیا ہے ۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور بلڈنگ انسپکٹر کاشف علی پر واضح ثبوتوں کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہونے کے واقعات نے عوام کے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے ۔اللہ والا ٹاؤن سیکٹر 31A کے پلاٹ نمبر L 815 پر خطرناک حد تک کمزور بنیادوں پر بلند عمارت کی تعمیر جاری ہے ۔جس سے علاقہ مکینوں میں شدید خوف و ہراس پایا جارہا ہے ۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ غیرقانونی تعمیرات کی منظوری کے بدلے افسران سے براہ راست معاہدے ہوتے ہیں۔ ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی کے نام سے وابستہ چند ایسے ہی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں بڑی رقوم کے عوض غیرقانونی تعمیرات کو قانونی جواز فراہم کیا گیا۔ ایک مقامی رہائشی نے بتایا، "ہم نے بار بار تحریری شکایات دیں، فوٹو اور ویڈیو ثبوت بھی فراہم کیے ، مگر ڈائریکٹر جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی کے دباؤ کی وجہ سے ہر بار یا تو کوئی کارروائی نہیں ہوئی یا پھر معمولی جرمانہ کر کے معاملہ رفع دفع کر دیا گیا۔”حکومتی اداروں کے اندرونی ذرائع سے جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، تحقیقاتی عمل میں جان بوجھ کر تاخیر کی جا رہی ہے ۔ ایک نامعلوم ذریعہ نے بتایا، ”ڈائریکٹر سمیع جلبانی کا کردار سب سے زیادہ مشکوک ہے ۔ وہ نہ صرف انسپکٹر کاشف علی کو تحفظ فراہم کرتے ہیں بلکہ تعمیراتی مافیا کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات ہیں جو ضلع بھر میں غیرقانونی تعمیرات کو فروغ دے رہے ہیں”۔ان غیرقانونی تعمیرات کے نتیجے میں شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ بجلی کے شارٹ سرکٹ، گیس لیک ہونے کے واقعات اور ساختی کمزوریوں کے باوجود ان عمارتوں میں رہائش جاری ہے ۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں کا مطالبہ ہے کہ اس مسئلے کا فوری تدارک کیا جائے اور تمام غیرقانونی تعمیرات کو نشانہ بنایا جائے ۔اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے جو نہ صرف ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی کے خلاف کارروائی کرے بلکہ ان کے نیٹ ورک کو بھی بے نقاب کرے ۔ عوام کی توقع ہے کہ حکومتی سطح پر سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں گے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور غیرقانونی تعمیرات

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے