سری لنکا کی درخواست،پاکستان کا بھارت سے میچ کھیلنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
شہباز شریف اور سری لنکن صدر میں ٹیلی فونک رابطہ، بنگلادیش نے بھی درخواست کردی
ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستان، بھارت کاشیڈول میچ 15 فروری کو کھیلا جا سکتا ہے، ذرائع
پاکستان نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں 15 فروری کو بھارت سے میچ شیڈول کے مطابق کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں شیڈول کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا میچ کھیلیں گی۔سری لنکن صدر کی درخواست پر وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم آفس کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف اور سری لنکا کے صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔اعلامیے کے مطابق سری لنکن صدر نے درخواست کی کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو سری لنکا میں ہونے والا پاک بھارت میچ کھیلنا چاہیے۔ وزیر اعظم نے سری لنکن صدر کو پاک بھارت میچ پر مشاورت کے بعد حتمی فیصلے سے آگاہ کرنے کا کہا۔سری لنکن صدر کا کہنا تھا کہ سری لنکا میں دہشت گردی کے دوران پاکستان نے سری لنکن کرکٹ کو بھرپور طریقے سے سپورٹ کیا، پاکستان نے سری لنکا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو ہر چیز پر فوقیت دی ، پاکستانی کرکٹ ٹیم نے دہشت گردی کے باوجود سری لنکا میں کرکٹ کھیلنے کے لیے دورے جاری رکھے۔دوسری جانب بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے بھی پاکستان سے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی درخواست کردی۔بی سی بی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پی سی بی چیٔرمین کا خاص شکریہ کہ انہوں نے اس دوران ہمارا ساتھ دیا، پاکستان سے درخواست ہیکہ وہ بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا میچ کھیلے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔