حج آپریشن کا جائزہ، سعودی ویزا بائیو میٹرک کی 17 فروری تک تکمیل پر زور
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
وزارت مذہبی امور نے پاک حج ایپ کے ذریعے عازمین حج کو سعودی ویزا بائیو میٹرک کی اہمیت اور طریقۂ کار سے مؤثر انداز میں آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت دی گئی کہ وہ سعودی بائیو میٹرک کے حوالے سے عازمین کو بھرپور سہولت اور رہنمائی فراہم کریں۔
یہ بھی پڑھیں: عازمین حج کے لیے ضروری ہدایات جاری، ویکسینیشن سرٹیفیکیٹ کا حصول لازمی قرار
ترجمان وزارت مذہبی امور نے واضح کیا کہ سعودی ویزا بائیو میٹرک کی تکمیل کے لیے 17 فروری کی ڈیڈ لائن حتمی ہے اور اس میں کسی قسم کی توسیع ممکن نہیں ہوگی۔
سیکریٹری مذہبی امور ڈاکٹر ساجد محمود چوہان کی زیر صدارت حج آپریشن کے حوالے سے منعقدہ اہم اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ متعلقہ بینک برانچیں عازمین حج کو سعودی ویزا بائیو میٹرک کے عمل میں عملی مدد فراہم کریں گی۔
ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق عازمین کی سہولت کے لیے تاشیر سینٹرز کے اوقات کار بڑھا دیے گئے ہیں، جو اب صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک خدمات فراہم کریں گے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان حج 2026ء کے انتظامات پر معاہدہ طے پا گیا
مزید برآں، وزارت مذہبی امور کے 7 ڈائریکٹوریٹس میں بائیو میٹرک سہولت ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ عازمین کو مزید آسانی فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے رہ جانے والے عازمین پر زور دیا کہ وہ پہلی فرصت میں اپنا سعودی ویزا بائیو میٹرک مکمل کرلیں، کیونکہ بائیو میٹرک کے بغیر حج ویزا کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بائیو میٹرک حج ڈاکٹر ساجد محمود چوہان سعودی عازمین حج وزارت مذہبی امور ویزا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بائیو میٹرک ڈاکٹر ساجد محمود چوہان ویزا سعودی ویزا بائیو میٹرک کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔