وزارت مذہبی امور نے پاک حج ایپ کے ذریعے عازمین حج کو سعودی ویزا بائیو میٹرک کی اہمیت اور طریقۂ کار سے مؤثر انداز میں آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت دی گئی کہ وہ سعودی بائیو میٹرک کے حوالے سے عازمین کو بھرپور سہولت اور رہنمائی فراہم کریں۔

یہ بھی پڑھیں: عازمین حج کے لیے ضروری ہدایات جاری، ویکسینیشن سرٹیفیکیٹ کا حصول لازمی قرار

ترجمان وزارت مذہبی امور نے واضح کیا کہ سعودی ویزا بائیو میٹرک کی تکمیل کے لیے 17 فروری کی ڈیڈ لائن حتمی ہے اور اس میں کسی قسم کی توسیع ممکن نہیں ہوگی۔

سیکریٹری مذہبی امور ڈاکٹر ساجد محمود چوہان کی زیر صدارت حج آپریشن کے حوالے سے منعقدہ اہم اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ متعلقہ بینک برانچیں عازمین حج کو سعودی ویزا بائیو میٹرک کے عمل میں عملی مدد فراہم کریں گی۔

ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق عازمین کی سہولت کے لیے تاشیر سینٹرز کے اوقات کار بڑھا دیے گئے ہیں، جو اب صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک خدمات فراہم کریں گے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان حج 2026ء کے انتظامات پر معاہدہ طے پا گیا

مزید برآں، وزارت مذہبی امور کے 7 ڈائریکٹوریٹس میں بائیو میٹرک سہولت ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ عازمین کو مزید آسانی فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے رہ جانے والے عازمین پر زور دیا کہ وہ پہلی فرصت میں اپنا سعودی ویزا بائیو میٹرک مکمل کرلیں، کیونکہ بائیو میٹرک کے بغیر حج ویزا کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بائیو میٹرک حج ڈاکٹر ساجد محمود چوہان سعودی عازمین حج وزارت مذہبی امور ویزا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بائیو میٹرک ڈاکٹر ساجد محمود چوہان ویزا سعودی ویزا بائیو میٹرک کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل