اسرائیلی صدر کا دورہ آسٹریلیا، سڈنی اور میلبورن میں ہزاروں افراد احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
آسٹریلیا میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے دورے کے خلاف ہونے والا احتجاج پیر کے روز تشدد کا رخ اختیار کر گیا، جس کے بعد سڈنی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور مرچوں والا اسپرے استعمال کیا۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق احتجاج میں ہزاروں افراد شریک تھے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کا چار روزہ دورہ آسٹریلیا کی یہودی برادری سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھا، خاص طور پر دسمبر میں سڈنی کے بونڈی بیچ پر حنوکہ کی تقریب کے دوران ہونے والی فائرنگ کے واقعے کے بعد۔ تاہم ان کے دورے پر سڈنی اور میلبورن میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا۔
سڈنی کے مرکزی کاروباری علاقے میں ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے، جہاں فلسطین کے حق میں نعرے لگائے گئے اور تقاریر کی گئیں۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ اسرائیلی صدر غزہ میں شہری ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔ احتجاج کے دوران پولیس کی بھاری نفری، گھڑ سوار اہلکار اور ہیلی کاپٹر بھی تعینات رہے۔
مزید پڑھیںپاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ہاتھوں غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت
غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی میٹنگ، ٹرمپ واشنگٹن میں عالمی رہنماؤں کی میزبانی کریں گے
پولیس کے مطابق جب مظاہرین نے آگے بڑھنے اور رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی تو حالات کشیدہ ہو گئے، جس پر آنسو گیس اور مرچوں والا اسپرے استعمال کیا گیا اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ فلسطین ایکشن گروپ کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے بار بار گھوڑوں اور اسپرے کے ذریعے مظاہرین کو پیچھے دھکیلا۔
اسی دوران میلبورن کے وسطی علاقے میں بھی ہزاروں افراد نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ نیو ساؤتھ ویلز کی ریاستی حکومت نے احتجاج سے قبل پولیس کو مظاہروں پر قابو پانے کے لیے اضافی اختیارات بھی دے رکھے تھے۔
ادھر اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے احتجاجی مقامات سے کچھ فاصلے پر ایک تقریب میں شرکت کی اور بونڈی بیچ واقعے کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے ماضی میں اسرائیلی صدر کے بعض بیانات پر بھی تنقید کی جا چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی صدر
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔