نوشکی میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی، 2 مکانات مسمار، کرفیو نافذ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بلوچستان کے ضلع نوشکی میں سیکورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی کے دوران سخت اقدامات کرتے ہوئے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا جب کہ اس دوران 1 مکانات کو بارودی مواد کے ذریعے مسمار کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ہمراہ شہر میں داخل ہوئی، جس کے بعد شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے اور کاروباری سرگرمیاں معطل رکھنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ نوشکی میں گزشتہ کئی روز سے سیکورٹی خدشات کے پیشِ نظر جزوی اور مکمل کرفیو نافذ ہے، جس کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو چکے ہیں۔ شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے روک دیا گیا ہے جب کہ داخلی اور خارجی راستوں پر سخت نگرانی جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق کارروائی کے دوران نوشکی کے علاقوں قاضی آباد اور احمد وال میں 2 مکانات کو نشانہ بنایا گیا۔ احمد وال کے علاقے میں کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ بشیر زیب بلوچ کے آبائی گھر کو دھماکے کے ذریعے منہدم کیا گیا جب کہ قاضی آباد میں ایک طویل عرصے سے خالی پڑے مکان کو بھی بارودی مواد لگا کر مسمار کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق قاضی آباد میں واقع مذکورہ مکان حاجی عبدالصمد کی ملکیت تھا، جو 2009 میں وفات پا چکے ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ گزشتہ کئی برسوں سے ایک خلیجی ملک میں مقیم ہیں اور یہ مکان 2011 سے غیر آباد تھا۔ سیکورٹی اداروں کے مطابق یہ اقدامات حساس معلومات اور سیکورٹی خدشات کی بنیاد پر کیے گئے۔
تاحال اس آپریشن کے حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن و امان کو یقینی بنانے اور تخریبی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔ مقامی آبادی میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے جبکہ صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔