واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکا میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کیخلاف ایک اہم اور تاریخی مقدمہ زیرِ سماعت ہے جو مستقبل میں ان کمپنیوں کے آپریٹ کرنے کے طریقے کو یکسر تبدیل کر سکتا ہے۔
یہ مقدمہ لاس اینجلس کی ایک اعلیٰ عدالت میں دائر کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے پلیٹ فارمز کو جان بوجھ کر نشہ آور بنایا، بالکل اسی طرح جیسے 1980 کی دہائی میں تمباکو اور سگریٹ کی صنعت نے صارفین کو عادی بنانے کی کوشش کی تھی۔

عدالتی کارروائی کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو مجموعی طور پر 22 بیل ویدر مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا، پہلے مقدمے میں بیانات کا آغاز پیر سے ہوگا جس میں میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ سمیت دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے بیانات متوقع ہیں۔

ان مقدمات میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے دفاع کی بنیاد امریکا کے مواصلاتی ایکٹ کے سیکشن 230 پر رہی ہے، جو آن لائن پلیٹ فارمز کو اس بنیاد پر قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے کہ وہ صارفین کے تیار کردہ، یعنی تھرڈ پارٹی مواد کو شائع کرتے ہیں۔

سیکشن 230 کے مطابق صارفین کی جانب سے پوسٹ کیے گئے مواد کی قانونی ذمہ داری پلیٹ فارمز پر عائد نہیں ہوتی، تاہم موجودہ مقدمہ اس قانونی تحفظ کو ایک نئے زاویے سے چیلنج کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران متعدد افراد اور اداروں نے انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور سنیپ چیٹ کو آن لائن نقصانات، خاص طور پر نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات کے الزامات کے تحت عدالت میں گھسیٹنے کی کوشش کی، تاہم وہ اب تک کامیاب نہیں ہو سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کمپنیوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل