وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سرکاری قرضے تاریخی بلند ترین سطح پر موجود ہیں، جس کے باعث ابھرتی اور ترقی پذیر معیشتوں کو بلند قرض سروسنگ اخراجات، سخت مالی حالات اور محدود مالی گنجائش جیسے مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے منعقدہ العلا کانفرنس 2026 کے موقع پر ’خودمختار قرضوں کے خطرات سے نمٹنے‘ کے عنوان سے اعلیٰ سطحی گول میز اجلاس میں شرکت کی۔

یہ کانفرنس حکومتِ سعودی عرب اور عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سعودی عرب سرمایہ کاری کانفرنس، سعودی وفد کی توجہ کا مرکز کیا تھا؟

اپنی گفتگو میں نے زور دیا کہ پالیسی کا بنیادی چیلنج صرف قرض کے حجم کا انتظام نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وقتی مالی دباؤ دیوالیہ پن کے بحران میں تبدیل نہ ہو، جبکہ ترقی کو فروغ دینے والے اور سماجی اخراجات کا تحفظ بھی برقرار رہے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے سعودی وزیرِ خزانہ محمد الجدعان کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام ترقی کا دشمن نہیں بلکہ پائیدار اور دیرپا اقتصادی نمو کی بنیاد ہے، اور پاکستان کا حالیہ تجربہ اس حقیقت کی بھرپور تائید کرتا ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے منضبط میکرو اکنامک پالیسیوں، ادارہ جاتی اصلاحات اور فعال قرض مینجمنٹ کے ذریعے معاشی استحکام کی بحالی میں ابتدائی مگر اہم پیش رفت کی ہے، تاہم اصلاحات کا یہ سفر ابھی جاری ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان سعودی عرب کے وژن 2030 سے سیکھنے کے لیے پُرعزم ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

انہوں نے بتایا کہ پاکستان عوامی قرضے کو قابو میں رکھنے اور بہتر انداز میں منظم کرنے کی راہ پر گامزن ہے، جس کے تحت قرضوں کی مدت میں توسیع، قرض سروسنگ لاگت میں کمی اور قبل از وقت قرض ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔

ان اقدامات کے نتیجے میں گزشتہ 3 برسوں کے دوران قرض کا جی ڈی پی سے تناسب تقریباً 74 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد کے لگ بھگ آ گیا ہے، جبکہ بیرونی قرض کا جی ڈی پی سے تناسب مستحکم رہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ سودی اخراجات میں نمایاں بچت، قرضوں کی میعاد میں بہتری اور ری فنانسنگ کے خطرات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کا مشترکہ مستقبل کے لیے اقتصادی تعلقات کے فروغ کا عزم

سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان میں قرضوں کے پائیدار تجزیے کے باقاعدہ اور شفاف نظام کے قیام کو بھی اجاگر کیا، جو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے طریقۂ کار سے ہم آہنگ ہے اور جس میں اندرونی و بیرونی قرضوں کے ساتھ حکومتی ضمانتیں بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے خطرات کی بہتر نشاندہی، قرض دہندگان کے ساتھ مؤثر روابط اور مارکیٹ کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، جو جی 20 کے کامن فریم ورک کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے ملکی وسائل کے بہتر حصول میں پیش رفت کا بھی ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیکس اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس نیٹ کے دائرہ کار میں توسیع کے نتیجے میں پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب، جو ماضی میں سنگل ڈیجٹ میں تھا، اب بڑھ کر تقریباً 12 فیصد کے قریب پہنچ چکا ہے۔

مزید پڑھیں: روپے کی قدر میں مضبوطی، پاکستانی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟

انہوں نے قرض مینیجمنٹ کو ماحولیاتی اور ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا ذکر کیا، جن میں گرین سکوک کا اجرا اور خودمختار پائیدار فنانسنگ فریم ورک کا قیام شامل ہے۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ خودمختار قرضوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات، مضبوط ادارے، شفافیت اور قابلِ اعتماد پالیسی فریم ورک ناگزیر ہیں، جنہیں عالمی سطح پر بہتر تعاون کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

العلا کانفرنس ٹیکس ٹیکس اصلاحات ٹیکس نیٹ جی ڈی پی دیوالیہ پن ڈیجیٹلائزیشن قرض مینیجمنٹ گرین سکوک مالی دباؤ محمد اورنگزیب وزیر خزانہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: العلا کانفرنس ٹیکس ٹیکس اصلاحات ٹیکس نیٹ جی ڈی پی دیوالیہ پن ڈیجیٹلائزیشن گرین سکوک مالی دباؤ محمد اورنگزیب

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا