سپریم کورٹ نے بیرسٹر سلمان صفدر کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے بیرسٹر سلمان صفدر کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عدالت نے توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے انہیں عدالتی نمائندہ مقرر کر دیا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، عدالت نے حکم دیا کہ سلمان صفدر جیل جا کر بانی پی ٹی آئی کی حالتِ زار اور انہیں دستیاب سہولیات کے حوالے سے تفصیلی تحریری رپورٹ پیش کریں۔
بھارت سے کرکٹ میچ کی اجازت دینے سری لنکن وزیر خارجہ کا پاکستانی فیصلے پر اظہارِ تشکر
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ملاقات میں سلمان صفدر کو کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آنی چاہیے۔
انہوں نے سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی قسم کا مسئلہ ہو تو وہ براہِ راست عدالت سے رابطہ کر سکتے ہیں، عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کل سلمان صفدر ملاقات کے بعد رپورٹ پیش کریں، ہم رپورٹ دیکھ کر پرسوں سماعت کریں گے، بعد ازاں عدالت نے سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے 5 اگست سے 18 اگست 2023 تک کی رپورٹ عدالت میں پیش کی اور بتایا کہ یہ رپورٹ اٹک جیل میں قید کے دوران کی ہے۔
بانی پی ٹی آئی ودیگر کیخلاف فارن فنڈنگ کیس میں چالان کا لیگل پراسس مکمل
اس موقع پر وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آئے اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بھی عمران خان سے ملاقات کی رسائی نہیں دی جا رہی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت حکم جاری کر چکی ہے اور سلمان صفدر آج ہی ملاقات کیلئے جائیں گے۔
عدالت نے قرار دیا کہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ سماعت پر مزید فیصلہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیرسٹر سلمان صفدر سپریم کورٹ کے حکم پر آج دوپہر 2 بجے بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کریں گے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے دو بجے ملاقات کی تصدیق کر دی، وہ سپریم کورٹ کے حکم پر اڈیالہ جیل روانہ ہوگئے، اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔
آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم پر توہین عدالت کا الزام، وضاحت طلب
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: عمران خان سے ملاقات کی بانی پی ٹی آئی سلمان صفدر کو سپریم کورٹ عدالت نے کی اجازت چیف جسٹس
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔