بانئ پی ٹی آئی کی جیل میں حالتِ زار اور سہولتوں سے متعلق رپورٹ جمع کروانے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
—فائل فوٹوز
سپریم کورٹ آف پاکستان نے وکیل سلمان صفدر کو ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے بانئ پی ٹی آئی کی جیل میں حالتِ زار اور دستیاب سہولتوں سے متعلق تحریری رپورٹ جمع کروانے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔
عدالت نے ایڈووکیٹ سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ بانئ پی ٹی آئی کی جیل میں حالتِ زار اور دستیاب سہولتوں سے متعلق تحریری رپورٹ جمع کرائیں۔
سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اگست 2023ء کے حکم نامے کے تحت جو رپورٹ تھی اس وقت بانئ پی ٹی آئی اٹک جیل میں تھے، اس لیے موجودہ لِونگ کنڈیشن پر رپورٹ منگوانا مناسب ہے۔
لطیف کھوسہ کی بانی سے ملاقات کی استدعا پر حکومت کو کل کے لیے نوٹس جاری کردیا گیا۔
عدالت نے ہدایت کی کہ سلمان صفدر بطور فرینڈ آف دی کورٹ اڈیالہ جیل جائیں اور انہیں بانئ پی ٹی آئی کی بیرک تک رسائی دی جائے تاکہ وہ تحریری جواب دے سکیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ کل تک تحریری رپورٹ جمع کرائی جائے۔
سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس پاکستان نے لطیف کھوسہ کو بات کرنے سے روک دیا۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ 24 اگست 2023ء کے حکم نامے کی روشنی میں تحریری جواب چیمبر میں جمع کرا دیا گیا تھا۔
ان کے مطابق بانئ پی ٹی آئی اس وقت اٹک جیل میں تھے جب آرڈر دیا گیا تھا اور 28 اگست 2023ء کو تحریری رپورٹ جمع کرا دی گئی تھی، جس کے ساتھ 5 تا 18 اگست کی میڈیکل رپورٹ بھی شامل تھی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 24 اگست 2023ء کے حکم نامے کے بعد کوئی ایسا آرڈر ریکارڈ پر نہیں جس پر سپریم کورٹ نے اظہارِ اطمینان کیا ہو۔
سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانئ پی ٹی آئی کی تحریری رپورٹ جمع سپریم کورٹ اگست 2023ء جیل میں
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔