ادارہ جاتی اصلاحات؛ کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کی رینکنگ اور اسکور میں بہتری
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
ملک میں ادارہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کی رینکنگ اور اسکور میں بہتری آئی ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) 2025 جاری کر دیا ہے، جس میں 2024 کے مقابلے میں پاکستان کے مجموعی اسکور میں ایک درجہ بہتری ریکارڈ کی گئی ہے اور اسکور بڑھ کر 28 تک پہنچ گیا ہے۔
تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایک درجہ بہتری کے ساتھ 136ویں پوزیشن حاصل کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں بھی گزشتہ 4 برس کی گڈ گورننس اور مسلسل ادارہ جاتی اصلاحات کی وجہ سے پاکستان کے مجموعی اسکور میں اضافے کا رجحان برقرار رہا۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں نہ صرف پبلک سیکٹر اور انتظامی بدعنوانی بلکہ قانون ساز اداروں اور عدلیہ میں بدعنوانی کے اعشاریوں میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی، خصوصاً انتظامی بدعنوانی اور عدالتی کرپشن سمیت اہم اعشاریوں میں 5 پوائنٹس تک کی بہتری سامنے آئی ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 2024 کے مقابلے میں 2025 میں سروے کے دائرہ کار میں 2 مزید ممالک کو شامل کیا گیا، جس کے بعد 2024 میں 180 جب کہ 2025 میں 182 ممالک میں بدعنوانی کے تاثر کا جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 2021 سے 2025 تک پاکستان میں بدعنوانی کے تاثر میں نمایاں کمی نوٹ کی گئی ہے اور گزشتہ 4 برس میں پاکستان کی پوزیشن میں 4 درجے بہتری آئی ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان نے گزشتہ 4 سالوں میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور مربوط اقدامات کیے ہیں۔ اس سے قبل دسمبر 2025 میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے بھی اپنی سالانہ رپورٹ شائع کی تھی، جس کے مطابق 3 میں سے 2 شہریوں کو سرکاری اداروں میں کبھی بھی بدعنوانی یا بے ضابطگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
گزشتہ ہفتے ایف پی سی سی آئی کے تعاون سے آئی پی ایس او ایس کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق 67 فیصد پاکستانیوں کو بدعنوانی اور 76 فیصد کو اقربا پروری کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔ رپورٹ میں دنیا بھر کے ممالک میں بدعنوانی کے تاثر کا جائزہ لیا گیا اور اس میں 2024 کے مقابلے میں 180 کی بجائے 182 ممالک کو شامل کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال پاکستان کے 135 سرکاری اداروں نے 600 سے زیادہ کامیاب اصلاحات کیں، جن کی تفصیلات گزشتہ روز پاکستان ریفارمز رپورٹ میں جاری کی گئیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے عالمی سطح پر بدعنوانی کے تاثر کو زائل کرنے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات پر زور دیا ہے جب کہ واضح کیا گیا ہے کہ گزشتہ 4 برس میں پاکستان ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے بدعنوانی کے تاثر میں 4 درجے نمایاں بہتری لانے میں کامیاب رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل ادارہ جاتی اصلاحات بدعنوانی کے تاثر میں بدعنوانی کے رپورٹ کے مطابق میں پاکستان اسکور میں رپورٹ میں کیا گیا گزشتہ 4 گیا ہے
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔