کراچی میں جیولری شاپ میں ڈکیتی کی واردات کا ڈراپ سین
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
کراچی کے پریڈی تھانے کی حدود میں جیولری شاپ کے مالک نے قرض کی ادائیگی کے لیے وقت حاصل کرنے کی غرض سے یہ جھوٹی اطلاع دی تھی۔
تفصیلات کے مطابق پریڈی پولیس کو جیولری شاپ میں ڈکیتی کی اطلاع موصول ہوئی تھی جس پر پولیس موقع پر پہنچ گئی تو پولیس کو بتایا گیا کہ ایک مسلح شخص دکان کے اندر داخل ہوا جبکہ اس کا ساتھی موٹر سائیکل پر باہر کھڑا تھا۔
واردات کے دوران مسلح ملزمان 40 لاکھ روپے مالیت کے طلائی زیورات لوٹ کر فرار ہوئے، ڈی ایس پی پریڈی لیاقت حیات کے مطابق جیلوری شاپ میں سی سی ٹی وی کیمرے نہ ہونے کے سبب پولیس نے دکان کے اطراف اور آس پاس کے کیمروں کی فوٹیج اکٹھی کی۔
کرائم سین یونٹ کی ٹیم کو بھی مزید تفتیش کے لیے طلب کیا گیا۔ موقع پر شواہد کی عدم موجودگی اور بیانات میں تضاد کے باعث پولیس کو موصول ہونے والی اطلاع مشکوک اور جھوٹی محسوس ہوئی۔
بعد ازاں دکان کے مالک مہروز علی نے اعتراف کیا کہ اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے وقت حاصل کرنے کی غرض سے یہ جھوٹی اطلاع دی تھی پولیس نے دکان دار کا بیان قلمبند کر کے ریکارڈ پر محفوظ کر لیا ہے۔
واقعے کے حوالے سے قانونی کارروائی جاری ہے۔ مارکیٹ کے ذمہ داران کو ہدایت کی ہے کہ اگر آئندہ کسی نے بھی ایسی جھوٹی اطلاع دی تو اس کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔