نیٹ میٹرنگ پالیسی اور سولر زادے
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کو نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی نہیں کرنی چاہیے تھی، لیکن اس بدلتی پالیسی سے جزوی متاثرہ سولر سسٹم لگوانے والے سولر زادے (سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی کل تعداد 4 لاکھ 66 ہزار ہے، جن میں سے 82 فیصد سولر زادوں کا تعلق بڑے شہروں سے ہے)۔
ان کی خدمت میں عرض ہے کہ وہ برائے مہربانی ان صارفین کا بھی خیال کریں جن کی مالی استطاعت سولر لگوانے کی اجازت نہیں دیتی اور یہ صارفین وہ کپیسٹی چارجز بھی ادا کرتے ہیں، جن کے معاہدے سابقہ حکومتیں کر چکی ہیں، اور ان غیر سولر زادوں کا ان چارجز کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں۔
خیال رہے کہ بجلی کے شعبے کے نگران ادارے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ’نیپرا‘ کی جانب سے ملک میں سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ متعارف کروائی گئی ہے۔
نئے حکومتی ریگولیشنز کے مطابق پرانے سولر زادوں کو یہ رعائت دی گئی ہے کہ وہ اپنی بجلی نیشنل گرڈ کو 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ فروخت کریں گے، جبکہ نئے سولر زادوں کی پیدا کردہ بجلی 8 روپے 13 پیسوں میں واپڈا لے گا۔
تاہم پرانے سولر زادوں کو ایکسپورٹ کردہ اضافی یونٹس جو کہ پہلے 3 ماہ کے لیے کریڈٹ کیے جاتے تھے، اب صرف ایک ماہ کے لیے کریڈٹ کیے جائیں گے۔
حکومت کی طرف سے نئی ریگولیشنز لانے کے بعد سولر زادے نئے ہوں یا پرانے، دونوں ہی حکومتی اقدام پر سراپا احتجاج ہیں اور وہ سولر زادے جو محفلوں میں غیر سولر زادوں کو تحقیر بھری نظروں سے دیکھتے تھے اور سولر کے فوائد پر بھاشن دیتے تھے، ان ریگولیشنز کے بعد اس انتظار میں ہے کہ کوئی ان سے ہمدردی کے دو بول ہی بول دے۔
خیر ان سولر زادوں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جنہوں نے لالچ میں اپنی ضرورت سے زائد کے سولر سسٹم لگوائے تھے تاکہ وہ اضافی بجلی واپڈا کو فروخت کر سکیں، ان اضافی یونٹس کی ادائیگی بھی غیر سولر زادوں کو ہی ادا کرنے پڑتی ہے۔
قارئین کو یہ بھی واضح کرتے جائیں کہ متوسط طبقے کو دی گئی 200 یونٹس پر فراہم کردہ سبسڈی کا فائدہ بھی یہ سولر زادے بھی اٹھا رہے ہیں اور وزیر توانائی کے مطابق 200 یونٹس استعمال کرنے والوں کی تعداد 90 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ سے زائد ہو گئی ہے۔
چونکہ یہ سولر زادے اپنی پیدا کردہ بجلی ہی استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے واپڈا یونٹس کی تعداد 200 یونٹس سے کم رہتی ہے اور وہ بھی اس سبسڈی سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس کے مستحق صرف متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانے ہیں۔
موجودہ صورت حال میں سولر زادے نئے ہوں یا پرانے، انہیں یہ سوچ کر خوش ہونا چاہیے کہ معاشرے میں اب بھی ان کا سٹیٹس غیر سولر زادوں سے اونچا ہی رہے گا اور انہیں حکومت کا یہ پالیسی اس وقت لانے پر بھی شکر ادا کرنا چاہیے کہ جب موسم میں تبدیلی کے سبب دھوپ کا دورانیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے ان سولر زادوں کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں بتدریج اضافہ ہو گا۔
آخر میں سولر زادوں کو مشورہ ہے کہ انہیں اسی پر اکتفا کرنا چاہیے (جن کی بڑی تعداد سولر میں کی گئی سرمایہ کاری پوری کر چکے ہیں) کہ وہ ماضی میں بھاری بلوں سے محفوظ رہے اور اب انہیں صرف اپنی پیدا کردہ سولر بجلی پر ہی گزارہ کرنا پڑے گا۔
اور جنہوں نے لالچ میں اضافی سولر پلیٹس لگوائیں، وہ صدقے یا خیرات کے طور پر اضافی پیدا کردہ یونٹس واپڈا کو دے کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: غیر سولر زادوں سولر زادوں کو نیٹ میٹرنگ سولر زادے پیدا کردہ کے لیے
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :