WE News:
2026-06-02@22:11:04 GMT

نیٹ میٹرنگ پالیسی اور سولر زادے

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

نیٹ میٹرنگ پالیسی اور سولر زادے

اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کو نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی نہیں کرنی چاہیے تھی، لیکن اس بدلتی پالیسی سے جزوی متاثرہ سولر سسٹم لگوانے والے سولر زادے (سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی کل تعداد 4 لاکھ 66 ہزار ہے، جن میں سے 82 فیصد سولر زادوں کا تعلق بڑے شہروں سے ہے)۔

ان کی خدمت میں عرض ہے کہ وہ برائے مہربانی ان صارفین کا بھی خیال کریں جن کی مالی استطاعت سولر لگوانے کی اجازت نہیں دیتی اور یہ صارفین وہ کپیسٹی چارجز بھی ادا کرتے ہیں، جن کے معاہدے سابقہ حکومتیں کر چکی ہیں، اور ان غیر سولر زادوں کا ان چارجز کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں۔

خیال رہے کہ بجلی کے شعبے کے نگران ادارے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ’نیپرا‘ کی جانب سے ملک میں سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ متعارف کروائی گئی ہے۔

نئے حکومتی ریگولیشنز کے مطابق پرانے سولر زادوں کو یہ رعائت دی گئی ہے کہ وہ اپنی بجلی نیشنل گرڈ کو 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ فروخت کریں گے، جبکہ نئے  سولر زادوں کی پیدا کردہ بجلی 8 روپے 13 پیسوں میں واپڈا لے گا۔

تاہم پرانے سولر زادوں کو ایکسپورٹ کردہ اضافی یونٹس جو کہ پہلے 3 ماہ کے لیے کریڈٹ کیے جاتے تھے، اب صرف ایک ماہ کے لیے کریڈٹ کیے جائیں گے۔

حکومت کی طرف سے نئی ریگولیشنز لانے کے بعد سولر زادے نئے ہوں یا پرانے، دونوں ہی حکومتی اقدام پر سراپا احتجاج ہیں اور وہ سولر زادے جو محفلوں میں غیر سولر زادوں کو تحقیر بھری نظروں سے دیکھتے تھے اور سولر کے فوائد پر بھاشن دیتے تھے، ان ریگولیشنز کے بعد اس انتظار میں ہے کہ کوئی ان سے ہمدردی کے دو بول ہی بول دے۔

 خیر ان سولر زادوں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جنہوں نے لالچ میں اپنی ضرورت سے زائد کے سولر سسٹم لگوائے تھے تاکہ وہ اضافی بجلی واپڈا کو فروخت کر سکیں، ان اضافی یونٹس کی ادائیگی بھی غیر سولر زادوں کو ہی ادا کرنے پڑتی ہے۔

قارئین کو یہ بھی واضح کرتے جائیں کہ متوسط طبقے کو دی گئی 200 یونٹس پر فراہم کردہ سبسڈی کا فائدہ بھی یہ سولر زادے بھی اٹھا رہے ہیں اور وزیر توانائی کے مطابق 200 یونٹس استعمال کرنے والوں کی تعداد 90 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ سے زائد ہو گئی ہے۔

چونکہ یہ سولر زادے اپنی پیدا کردہ بجلی ہی استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے واپڈا یونٹس کی تعداد 200 یونٹس سے کم رہتی ہے اور وہ بھی اس سبسڈی سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس کے مستحق صرف متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانے ہیں۔

موجودہ صورت حال میں سولر زادے نئے ہوں یا پرانے، انہیں یہ سوچ کر خوش ہونا چاہیے کہ معاشرے میں اب بھی ان کا سٹیٹس غیر سولر زادوں سے اونچا ہی رہے گا اور انہیں حکومت کا یہ پالیسی اس وقت لانے پر بھی شکر ادا کرنا چاہیے کہ جب موسم میں تبدیلی کے سبب دھوپ کا دورانیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے ان سولر زادوں کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں بتدریج اضافہ ہو گا۔

آخر میں سولر زادوں کو مشورہ ہے کہ انہیں اسی پر اکتفا کرنا چاہیے (جن کی بڑی تعداد سولر میں کی گئی سرمایہ کاری پوری کر چکے ہیں) کہ وہ ماضی میں بھاری بلوں سے محفوظ رہے اور اب انہیں صرف اپنی پیدا کردہ سولر بجلی پر ہی گزارہ کرنا پڑے گا۔

اور جنہوں نے لالچ میں اضافی سولر پلیٹس لگوائیں، وہ صدقے یا خیرات کے طور پر اضافی پیدا کردہ یونٹس واپڈا کو دے کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نوید نسیم

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: غیر سولر زادوں سولر زادوں کو نیٹ میٹرنگ سولر زادے پیدا کردہ کے لیے

پڑھیں:

بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی

پاور ڈویژن نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال جون کے دوران بجلی صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا۔

اعلامیے کے مطابق ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.73 روپے فی یونٹ اضافہ جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو مجموعی طور پر 20 پیسے فی یونٹ کا فائدہ حاصل ہوگا۔

پاور ڈویژن کے مطابق جون میں بجلی کے نرخ جنوری تا مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سہ ماہی ریلیف کی شرح ماہانہ اضافے سے زیادہ رہی، جس کی وجہ سے صارفین کو خالص ریلیف میسر آئے گا۔

پاور ڈویژن نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار رہی اور برینٹ کروڈ آئل کی متوقع قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس صورتحال کے باوجود حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے بجلی صارفین کو بڑے اضافی مالی بوجھ سے محفوظ رکھا۔

اعلامیے کے مطابق اپریل میں بجلی کی قیمت میں ممکنہ طور پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافے کا خدشہ تھا، تاہم حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اس اضافے کو محدود کرکے 1.73 روپے فی یونٹ تک رکھا گیا۔ اس طرح صارفین پر تقریباً 38 ارب روپے کا اضافی بوجھ منتقل ہونے سے بچ گیا۔

پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ محدود لوڈ مینجمنٹ، مقامی گیس کے استعمال اور فرنس آئل کے مؤثر استعمال کے ذریعے توانائی کے بحران کا مقابلہ کیا گیا۔

مزید بتایا گیا کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے جس سے مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا ریلیف صارفین کو ملے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ لائن لاسز میں کمی اور بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث صارفین کو نمایاں ریلیف فراہم ہوا، جبکہ متوقع بیس ٹیرف کے مقابلے میں 46 ارب روپے کی منفی تبدیلی بھی صارفین کے حق میں گئی۔

پاور ڈویژن نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے عالمی اور علاقائی سطح پر درپیش مشکلات کے باوجود بجلی کے نرخوں کو مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بجلی صارفین پاور ڈویژن ریلیف کا اعلان عوام کو خوشخبری وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف