کم عمری کی شادی کیخلاف قانون کو چیلنج کرنے پر شرمیلا فاروقی کا مولانا فضل الرحمان کو سزا دینے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
سینیٹ میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون کی مخالفت پر شدید بحث دیکھنے میں آئی، جہاں پی پی پی کی سینیٹر شرمیلا فاروقی نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے قانون کو چیلنج کرنے پر سخت ردعمل دیا۔
ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے دھمکی دی گئی کہ اگر صدر مملکت نے دستخط کیے تو ملک گیر احتجاج ہوگا، تاہم صدر آصف علی زرداری نے ‘صحیح سمت میں کھڑے ہونے’ اور ‘اس قوم کی بیٹیوں کے ساتھ کھڑے ہونے’ کا فیصلہ کیا اور بل پر دستخط کیے، جو آج باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کم عمری کی شادی کا قانون غیر اسلامی ہے، 18 سال سے چھوٹے نوجوانوں کی شادیاں کرواؤں گا، مولانا فضل الرحمان
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی رکنِ پارلیمان، جو خود قانون ساز ہے، ایوان میں کھڑے ہو کر منظور شدہ قانون کو چیلنج کرتا ہے اور ریاست کو للکارتا ہے تو اس کی سزا کیا ہونی چاہیے؟ ان کا کہنا تھا کہ تمام اراکین نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق ایوان کو چلائیں گے، اس لیے منظور شدہ قانون کو چیلنج کرنا پارلیمان کی بالادستی کے خلاف ہے۔
سینیٹر شرمیلا فاروقی نے واضح کیا کہ کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون کو ‘شرعی’ یا ‘اسلامی معاملہ’ قرار دے کر متنازع بنانے کی کوشش درست نہیں۔ ان کے مطابق یہ قانون بچیوں کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے بنایا گیا ہے اور اس پر پہلے بھی مشترکہ اجلاس میں تفصیلی بحث ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: غصہ آیا تو میں بھی 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا، حافظ حمد اللہ کا اعلان
چیئر کی جانب سے انہیں پوائنٹ آف آرڈر تک محدود رہنے کی ہدایت بھی کی گئی، تاہم انہوں نے مؤقف اپنایا کہ چونکہ وہ اس قانون کی بانیوں میں شامل ہیں اور ایوان اس کا محافظ ہے، اس لیے ان کا جواب دینا ضروری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Sharmila Farooqi Underage marriage شرمیلا فاروقی کم عمری کی شادی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شرمیلا فاروقی کم عمری کی شادی کم عمری کی شادی قانون کو چیلنج شرمیلا فاروقی
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز