وزیراعظم کے دورے کے سبب محمود اچکزئی کی ملاقات مؤخر ہوئی، جلد ہونے کا امکان ہے، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی اور وزیر اعظم کے درمیان ملاقات سے متعلق مختلف اطلاعات زیرِ گردش ہیں، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
وہ پارلیمنٹ ہاؤس میں وی نیوز سے خصوصی گفتگو میں بیرسٹر گوہر علی خان نے بتایا کہ اس سے قبل یہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ وزیر اعظم کے اسمبلی آنے کی صورت میں ملاقات ممکن ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے جمعے کے روز ملاقات کی توقع تھی، بعد ازاں پیر کے دن بھی امید کی جا رہی تھی۔
تاہم حکومت کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق وزیر اعظم بیرونِ ملک دورے پر جا رہے ہیں، جس کے بعد واپسی پر ملاقات کا امکان ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے بھی مختلف باتیں سامنے آ رہی ہیں، کبھی کہا جاتا ہے کہ کسی سینیئر رہنما کی ملاقات کروا دی جائے گی، تاہم اس حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ آج کارکنان اور اہلِ خانہ کی ملاقاتیں طے ہیں جبکہ قیادت کی ملاقات بھی ہونی چاہیے۔ ملاقاتیں ہونی چاہییں اس میں سیاست نہ ہو۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات موجود ہیں، یہ خدشات ختم ہونے چاہییں اور عوام کو اطمینان دلانا ضروری ہے کہ ان کی صحت کا باقاعدہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدالتوں کو چاہیے کہ پاکستان تحریک انصاف کے مقدمات آئین اور قانون کے مطابق مقرر کریں اور ان میں تیزی لائی جائے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بارے میں فی الحال کچھ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا، تاہم وہ متعلقہ حکام سے درخواست ضرور کریں گے کہ عمران خان سے ملاقات کو یقینی بنایا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن لیڈر بیرسٹر گوہر پارلیمنٹ عمران خان محمود خان اچکزئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر بیرسٹر گوہر پارلیمنٹ محمود خان اچکزئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کی ملاقات نے کہا کہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔