پاکستان کا جدید اسٹیلتھ فائٹر جیٹس J-35 خریدنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
سابق وائس چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر مارشل (ر)ارشد ملک نے کہا ہے کہ پاکستان ایئر فورس نے ملکی فضائی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے جدید اسٹیلتھ فائٹر جیٹس J-35 کی شمولیت کا فیصلہ کرلیا ہے،آئندہ 2 سے 3 برسوں میں J-35 طیارے پاکستان ایئر فورس کے بیڑے میں شامل ہو سکتے ہیں جن کی ابتدائی تعداد 20 سے 32 کے درمیان متوقع ہے،یہ تاثر نہیں کہ پاکستان ایئر فورس کی کامیابی کسی دوسرے ملک کی براہِ راست مدد کا نتیجہ ہے،اگرچہ سازوسامان مختلف ممالک سے حاصل کیا جاتا ہے لیکن اس کا موثر استعمال، انٹیگریشن اور اسٹریٹیجک اپروچ مکمل طور پر پاکستان ایئر فورس کی قیادت اور پیشہ ورانہ مہارت کا عکاس ہے۔ایک انٹر ویو میں انہوںنے کہاکہ یہ طیارے نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کریں گے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔J-35 جیسے جدید اسٹیلتھ طیارے پاکستان کے لیے ایک مضبوط اسٹریٹیجک پیغام ہیں، یہ طیارے گہری مار(ڈیپ پینیٹریشن)، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، جدید ریڈار سسٹمز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی بدولت دشمن کے دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔پاکستان ایئر فورس نے ہمیشہ دفاعی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ اوفینسو صلاحیتوں کو بھی متوازن انداز میں فروغ دیا ہے ۔ایئر مارشل (ر)ارشد ملک نے واضح کیاکہ جدید جنگیں اب صرف روایتی فضائی یا زمینی محاذ تک محدود نہیں رہیں بلکہ سائبر، اسپیس، معاشی اور نفسیاتی محاذ بھی جنگ کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔پاکستان ایئر فورس نے ان بدلتے ہوئے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے ملٹی ڈومین آپریشنز کی حکمت عملی اپنائی، جس میں سائبر فورس، اسپیس فورس، الیکٹرانک وارفیئر اور نیٹ ورک سینٹرک آپریشنز کو ایک مربوط نظام کے تحت استعمال کیا گیا۔ایئر مارشل (ر)ارشد ملک نے ملک میں حالیہ سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دہشتگرد حملوں میں اضافہ ایک تشویشناک امر ہے۔معصوم شہریوں کی شہادتیں ایک بڑا قومی سانحہ ہیں اور یہ صورتحال صرف اندرونی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے بیرونی ہاتھ بھی شامل ہیں،خطے میں بدلتی ہوئی جیو اسٹریٹیجک صورتحال نے پاکستان کے لیے سکیورٹی چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ جدید دور میں دشمن روایتی جنگ کے بجائے پراکسیز، سائبر حملوں اور نفسیاتی دبا ئوکے ذریعے ریاستوں کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کرتا ہے،پاکستان ایئر فورس نے ان خطرات کے پیش نظر نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو ازسرِنو منظم کیا بلکہ مستقبل کی جنگوں کے لیے جامع منصوبہ بندی بھی کی۔ایئر مارشل (ر)ارشد ملک کے مطابق 2019 کے بعد پاکستان ایئر فورس نے اپنی کمزوریوں کا گہرائی سے تجزیہ کیا اور انڈیجنیائزیشن یعنی مقامی سطح پر ٹیکنالوجی کی تیاری کو ترجیح دی،اگر کسی ملک کے پاس جدید سسٹمز کا مکمل کنٹرول نہ ہو تو وہ طویل المدتی دفاعی خودمختاری حاصل نہیں کر سکتا، اسی سوچ کے تحت پاکستان ایئر فورس نے اپنے سافٹ ویئر، ریڈار سسٹمز، الیکٹرانک وارفیئر اور میزائل انٹیگریشن پر بھرپور توجہ دی۔انہوں نے کہا کہ جے ایف 17 تھنڈر آج پاکستان ایئر فورس کا ایک مکمل طور پر کامبیٹ پروون طیارہ ہے جس کے بلاک تھری ورژن میں جدید AESA ریڈار، بی وی آر میزائل، الیکٹرانک کانٹر میئرز اور جدید نیٹ ورک انٹیگریشن شامل ہے،یہ طیارہ نہ صرف کم لاگت بلکہ موثر کارکردگی کی وجہ سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔ایئر مارشل (ر)ارشد ملک نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان ایئر فورس کی کامیابی کسی بیرونی ملک کی براہِ راست مدد کا نتیجہ ہے۔اگرچہ سازوسامان مختلف ممالک سے حاصل کیا جاتا ہے لیکن اس کا موثر استعمال، انٹیگریشن اور اسٹریٹیجک اپروچ مکمل طور پر پاکستان ایئر فورس کی قیادت اور پیشہ ورانہ مہارت کا عکاس ہے۔جدید ہتھیار محض خرید لینے سے افواج مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ اصل طاقت درست حکمت عملی، تربیت اور فیصلہ سازی میں ہوتی ہے۔پاکستان ایئر فورس مستقبل میں بھی دفاعی تیاریوں کو مسلسل بہتر بناتی رہے گی،دشمن کی کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے پاکستان ایئر فورس نہ صرف دفاعی بلکہ اوفینسو سطح پر بھی مکمل طور پر تیار ہے۔پاکستان ایئر فورس کی یہ پیشرفت نہ صرف ملکی دفاع کے لیے اہم ہے بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ درست وژن، مستقل مزاجی اور مقامی صلاحیتوں پر اعتماد کے ذریعے ایک مضبوط اور خودمختار دفاعی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان ایئر فورس کی پاکستان ایئر فورس نے ر ارشد ملک نے ایئر مارشل کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند