پارٹی تو میری ہے، پی ٹی آئی سے تو مجھے عمران خان بھی نہیں نکال سکتا، جنید اکبر
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سابق سربراہ جنید اکبر خان نے کہا کہ پی ٹی آئی تو ان کی جماعت ہے جس سے انہیں عمران خان بھی نہیں نکال سکتے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدرجنید اکبر نے وضاحت کی کہ نہ وہ پارٹی چھوڑ سکتے ہیں، نہ ہی کوئی انہیں پارٹی سے نکال سکتا ہے۔
’پارٹی تو میری ہے میں نے یہ کہا تھا کہ میں اسپیکر سے صاف کہوں گا کہ مجھے الگ نشست دلائی جائے۔ ‘آپ کی پارلیمانی کمیٹی میں بھی نہیں بیٹھتا آپ کے ساتھ نہیں بیٹھتا۔
یہ بھی پڑھیں:
’یہ بات نہیں ہے، شکایتوں سے تو مجھے میرا خان بھی نہیں نکال سکتا، وہ تو میری ہے۔’
واضح رہے کہ جنید اکبر نے یہ وضاحت اس وقت دی ہے کہ جب گزشتہ روز ان کی ایک آڈیو لیک ہوئی تھی، جس میں انہیں پارٹی تک چھوڑنے کی دھمکی دیتے ہوئے سناجاسکتا ہے۔
آڈیو فائل کے مطابق پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر و رکن قومی اسمبلی جنید اکبر نے پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی اور قیادت کے رویے پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی چھوڑنے کی دھمکی دی تھی۔
مزید پڑھیں:
مذکورہ آڈیو لیک میں جنید اکبر کا کہنا تھا کہ ان کی برداشت ختم ہو چکی ہے اور وہ آج کے بعد نہ تو پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا حصہ رہیں گے، اور نہ ہی چیف وہپ، پارلیمانی لیڈر یا کسی اور عہدے دار کو تسلیم کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں فیصلے چند افراد روزانہ کی بنیاد پر کرتے ہیں جبکہ دیگر اراکین کو ایوان میں بولنے کا موقع تک نہیں دیا جاتا، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے شکوہ کیا تھا کہ وہ سال میں چند ہی مواقع پر اسمبلی میں بولے ہیں، جبکہ بجٹ اور اہم معاملات میں بھی نظر انداز کیا جاتا رہا۔
مزید پڑھیں:
جنید اکبر نے سوال اٹھایا کہ کیا منتخب نمائندے روزانہ صرف رسمی حاضری کے لیے آتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر شرافت اور برداشت کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر نے مزید کہاکہ دہشتگردی جیسے سنگین معاملات پر بھی کسی میں یہ ہمت نہیں کہ سوال کرے کہ صوبائی حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کی ذمہ داری کیا ہے، جبکہ روزانہ معمولی باتوں پر مذاق اور تنقید کی جاتی ہے۔
جنید اکبر نے پارلیمانی کمیٹی سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آئندہ اسپیکر سے براہِ راست رابطہ کرکے آزاد حیثیت میں بیٹھنے کی درخواست کریں گے۔
’آپ لوگ بھاڑ میں جائیں، میں کل اسپیکر کو باضابطہ طور پر درخواست کروں گا مجھے اسمبلی میں الگ نشست الاٹ کی جائے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپیکر اسٹیبلشمنٹ بجٹ پارلیمانی کمیٹی پارلیمانی لیڈر پی ٹی آئی جنید اکبر چیف وہپ دہشتگردی صوبائی حکومت عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکر اسٹیبلشمنٹ پارلیمانی کمیٹی پارلیمانی لیڈر پی ٹی ا ئی جنید اکبر چیف وہپ دہشتگردی صوبائی حکومت پارلیمانی کمیٹی جنید اکبر نے پی ٹی ا ئی بھی نہیں تھا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔