بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر جنوری 2026 میں 3.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر نے ایک بار پھر ملکی معیشت کے لیے مضبوط سہارا فراہم کیا ہے، جس کے مطابق جنوری 2026 کے دوران کارکنوں کی ترسیلات زر کی مد میں 3.
5 ارب امریکی ڈالر موصول ہوئے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ترسیلات زر میں سال بہ سال بنیادوں پر 15.4 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو بیرون ملک پاکستانیوں کے اعتماد اور ملک سے ان کے مضبوط معاشی تعلق کا عکاس ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے ابتدائی 7 ماہ یعنی جولائی سے جنوری کے دوران مجموعی طور پر 23.2 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 11.3 فیصد زیادہ ہیں۔
گزشتہ برس جولائی تا جنوری کے دوران بیرون ملک پاکستانیوں نے 20.9 ارب ڈالر وطن بھجوائے تھے جب کہ رواں مالی سال میں اس میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق یہ اضافہ نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مددگار ہے بلکہ جاری کھاتے کے دباؤ کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جنوری 2026 کے دوران ترسیلات زر کے بڑے ذرائع میں سعودی عرب سرفہرست رہا، جہاں سے 739.6 ملین ڈالر پاکستان منتقل کیے گئے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات سے 694.2 ملین ڈالر، برطانیہ سے 572.1 ملین ڈالر جبکہ امریکا سے 294.7 ملین ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خلیجی ممالک اور مغربی دنیا میں مقیم پاکستانی محنت کش بدستور ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ترسیلات زر میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رسمی بینکاری چینلز کے استعمال میں اضافہ، ڈیجیٹل ترسیلاتی نظام کی بہتری اور حکومتی سطح پر ترسیلات زر کو فروغ دینے کے اقدامات ہیں۔
اس کے علاوہ عالمی سطح پر پاکستانی محنت کشوں کی طلب، خاص طور پر خلیجی ممالک میں، بھی اس اضافے کی ایک اہم وجہ قرار دی جا رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک اور حکومت کی جانب سے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے ترسیلات زر بھیجنے کے عمل کو آسان بنانے کے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف درآمدی بل کی ادائیگی میں سہولت ملتی ہے بلکہ روپے پر دباؤ کم ہونے میں بھی مدد ملتی ہے۔
ترسیلات زر گھریلو کھپت میں اضافے، غربت میں کمی اور مجموعی اقتصادی سرگرمی کو متحرک کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر ملین ڈالر کے مطابق کے دوران کے لیے
پڑھیں:
مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
اسلام آباد، گزشتہ مہینے پاکستان میں 3ہزار 161نئی کمپنیاں رجسٹرڈ(companies registerd) ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 97 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر کی گئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق صوبائی اور علاقائی لحاظ سے مئی کے دوران سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں پنجاب میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا سیکٹر سرفہرست رہا، جہاں آئی ٹی میں سب سے زیادہ 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
اس کے بعد ٹریڈنگ میں 503 ، سروسز سیکٹر میں 404 ، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 303 جبکہ سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ مئی میں 17 ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔
مزید پڑھیں:بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
چین سرفہرست رہا جہاں کے نواسی شیئر ہولڈرز نے کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی۔ تمام غیر ملکی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ تیرہ کروڑ چورانوے لاکھ روپے ہے۔