ہائی پروفائل مصطفٰی عامر قتل کیس التوا کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
ہائی پروفائل مصطفٰی عامر قتل کیس ابھی تک التوا کا شکار ہے جس میں چالان جمع ہونے کے 6 ماہ بعد بھی ملزمان پر فرد جرم عائد نا ہوسکی۔تفصیلات کے مطابق مقتول مصطفی عامر کی والدہ وجیہ عامر نے التوا کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ہائیکورٹ میں مصطفی عامر قتل کیس کی مدعی وجیہ عامر کی درخواست کی سماعت ہوئی۔درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ اے ٹی سی 16 کے جج کے انتقال کے بعد کیس زیر التوا تھا۔ کیس اے ٹی سی 6 منتقل ہونے کے بعد سندھ حکومت نے انسداد دہشتگردی عدالتوں کی ری اسٹرکچرنگ کی۔ری اسٹرکچرنگ کے نتیجے میں اے ٹی سی 6 کو انسداد منشیات عدالت میں تبدیل کردیا گیا۔ کیس میں تاخیر انصاف کے تقاضوں کیخلاف ہے۔عدالت نے مصطفی عامر قتل کیس ٹرانسفر کرنے کی منظوری دیدی۔ عدالت نے مصطفی عامر قتل کیس کو نیا نمبر الاٹ کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ مقدمے میں ملزم ارمغان اور شیراز جیل میں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عامر قتل کیس مصطفی عامر
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔