بلوچستان میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ: بلوچستان میں کینسر کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافے نے طبی ماہرین اور عوام دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں رواں سال بارہ ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آ چکے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اٹامک انرجی کینسر اسپتال سینار میں او پی ڈی کا بوجھ 22 ہزار سے تجاوز کر گیا ہے، جو نہ صرف اسپتال کی سہولیات پر دباؤ بڑھا رہا ہے بلکہ بڑھتے ہوئے مریضوں کی دیکھ بھال میں سنگین چیلنجز بھی پیدا کر رہا ہے۔
طبی اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں تقریباً 10 ہزار کینسر کے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ گزشتہ برس اس تعداد میں دو ہزار کا اضافہ ہوا اور یہ 12 ہزار تک جا پہنچی۔
اسپتال میں زیرِ علاج مریضوں میں کم عمر افراد بھی شامل ہیں اور چھاتی کے سرطان کے کیسز اب کم عمری کی بچیوں میں بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، معدہ، خوراک کی نالی، چھوٹی اور بڑی آنت کے سرطان کے بڑھتے ہوئے کیسز نے طبی حلقوں میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کی بڑی وجوہات غیر متوازن طرزِ زندگی، ماحولیاتی آلودگی، صنعتی فضلے کی موجودگی اور سگریٹ نوشی ہیں۔ ساتھ ہی بروقت تشخیص کی کمی، احتیاطی تدابیر سے لاعلمی اور صحت کے شعور میں کمی نے بیماری کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث مریض اکثر دیر سے طبی مراکز کا رخ کرتے ہیں۔
سینار اسپتال میں زیرِ علاج مریضوں اور ان کے لواحقین نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ میں جدید اور مکمل طبی سہولیات سے آراستہ کینسر اسپتال قائم کیا جائے تاکہ مریضوں کو بروقت اور مقامی سطح پر معیاری علاج فراہم کیا جا سکے۔
ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ کینسر کی روک تھام اور اس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے بروقت تشخیص، مؤثر طبی سہولیات، عوامی آگاہی اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا ناگزیر ہے، احتیاط اور آگاہی ہی اس مہلک مرض کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ہیں، اور اگر یہ اقدامات مؤثر طریقے سے نہ کیے گئے تو کیسز میں مسلسل اضافہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کینسر کے
پڑھیں:
میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور ماڈل میرب علی نے حال ہی میں اپنی صحت سے متعلق ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہیں انگلی کے مسئلے کے باعث سرجری کروانا پڑی، جس کے بعد وہ اسپتال میں زیرِ علاج رہیں۔
میرب علی نے سوشل میڈیا پر مداحوں کو اپنی طبی صورتحال سے آگاہ کیا۔ اداکارہ کے مطابق ان کی ایک انگلی میں حرکت محدود ہو گئی تھی اور وہ بار بار لاک ہو جاتی تھی، جس کے باعث روزمرہ امور انجام دینا مشکل ہو رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ماہر امراضِ جوڑ (رہیومیٹولوجسٹ) اور نیورولوجسٹ نے انہیں صحت مند قرار دیا تھا، تاہم بعد ازاں آرتھوپیڈک سرجن نے مکمل معائنے کے بعد سرجری تجویز کی۔
میرب علی کے مطابق انہیں توقع تھی کہ یہ ایک معمولی اور مختصر نوعیت کا آپریشن ہوگا، لیکن سرجری ان کی توقع سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور وقت طلب ثابت ہوئی۔ یہ آپریشن کراچی کے آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں انجام دیا گیا، جہاں انہوں نے علاج کے دوران اپنی ایک ویڈیو بھی مداحوں کے ساتھ شیئر کی۔
View this post on Instagramاداکارہ نے بتایا کہ سرجری کے بعد اب وہ بتدریج صحت یاب ہو رہی ہیں، جبکہ ان کے دوستوں، ساتھی فنکاروں اور مداحوں کی جانب سے نیک خواہشات اور دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے۔
شوبز شخصیات میں مایا خان، درفشاں سلیم، ثناء فہد اور رابعہ کلثوم سمیت متعدد فنکاروں نے میرب علی کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ سوشل میڈیا صارفین نے بھی اداکارہ کو آرام کرنے اور موبائل فون کے زیادہ استعمال سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تاکہ انگلی پر مزید دباؤ نہ پڑے۔
بعض مداحوں کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی طبی شکایت بعض اوقات کھیلوں یا ہاتھوں کے مسلسل استعمال کے باعث بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اداکارہ کی جانب سے صحت سے متعلق یہ انکشاف سامنے آنے کے بعد مداح ان کی جلد مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں۔