امریکی کانگریس کی ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی کے سامنے جےفری ایپسٹائن کی معاون گیسلین میکس ویل نے پیر کو سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا، تاہم ان کے وکیل نے کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انہیں معافی دیں تو وہ بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

64 سالہ میکس ویل 20 سال کی سزا کاٹ رہی ہیں، انہیں نابالغ لڑکیوں کو ایپسٹائن کے لیے فراہم کرنے کے جرم میں 2021 میں سزا دی گئی تھی۔

میکس ویل نے کمیٹی کے سامنے ویڈیو لنک کے ذریعے Fifth Amendment کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے آپ کو قصوروار ثابت کرنے سے بچانے کے لیے خاموش رہیں گی۔

ان کے وکیل ڈیوڈ مارکس نے کہا کہ اگر صدر ٹرمپ انہیں معافی دیں تو وہ عوام کے سامنے سچائی بیان کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ اور سابق صدر بل کلنٹن دونوں ایپسٹائن کے دوست تھے لیکن کسی جرم میں ملوث نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں

امریکی کانگریس جیفری ایپسٹین کی معاون گھسلین میکسویل سے خفیہ بیان لے گی

ایپسٹین فائلز میں دلائی لامہ کا نام، روحانی پیشوا کے دفتر کی دوٹوک وضاحت سامنے آگئی

ایپسٹین اسکینڈل پر شہزادہ ولیم اور کیتھرین کا ردعمل سامنے آگیا

یہ سماعت اس وقت ہو رہی ہے جب انصاف محکمہ نے ایپسٹائن کی تحقیقات سے متعلق لاکھوں دستاویزات جاری کی ہیں، جن میں زیادہ تر معلومات محرم قرار دی گئی ہیں۔ کانگریس کے ارکان کو ان دستاویزات کے بغیر کسی روک ٹوک کے معائنے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن صرف محفوظ مقامات پر۔

کچھ ارکان نے کہا کہ ان دستاویزات میں چھپائی گئی معلومات میں کئی اعلیٰ حکومتی عہدیدار اور اہم شخصیات شامل ہیں، جنہیں ایپسٹائن کے جرائم میں معاون یا شریک قرار دیا جا سکتا ہے۔

میکس ویل واحد شخص ہیں جو ایپسٹائن کے جرم میں سزایافتہ ہوئے، جبکہ ایپسٹائن 2019 میں مقدمے کے دوران جیل میں ہلاک ہو گئے تھے۔ کانگریس نے بل اور ہلیری کلنٹن کو بھی طلب کیا ہے تاکہ ایپسٹائن سے تعلقات کے بارے میں بیان ریکارڈ کر سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میکس ویل کہا کہ

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان