جن دہشت گردوں کو ن لیگ نے مار کر نکالا، بانی پی ٹی آئی واپس لائے، افنان اللّٰہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر افنان اللّٰہ نے کہا ہے کہ جن دہشت گردوں کو ن لیگ نے مار مار کر نکالا، بانی پی ٹی آئی انہیں واپس لائے۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب میں افنان اللّٰہ نے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ تو حل ہو چکا تھا، 2018ء میں مسلم لیگ ن نے دہشت گردی کو ختم کر دیا تھا۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بھارت کو جس طرح شکست ہوئی دوبارہ حملے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشت گردوں کو جیل میں بند یا ملک سے بھگا دیا تھا، بتایا جائے کہ ملک میں دہشت گردی واپس کیسے آئی؟ آج حملے ہو رہے ہیں،اس کی ذمے دار اُس وقت کی سیاسی اور عسکری قیادت ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ سابق صدر عارف علوی نے 100 سے زائد لوگوں کو معاف کیا، جنہوں نے لوگوں کو ذبح کیا، لسانیت اور فرقہ واریت کی جو آگ لگائی جا رہی ہے ہمیں اسے روکنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے بسنت کی آفیشل تقریبات ختم کیں، لیکن بار بار کہا جا رہا ہے کہ بسنت منائی، علیمہ خان اور لطیف کھوسہ نے بھی بسنت منائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔