اسحاق ڈار کے بیٹے کو اہم عہدہ مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
لاہور : وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے بیٹے علی مصطفیٰ دار کو وزیر اعلیٰ مریم نواز کا مشیر برائے مصنوعی ذہانت مقرر کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے علی مصطفیٰ دار کو وزیر اعلیٰ مریم نواز کا مشیر برائے مصنوعی ذہانت مقرر کر دیا. جس کے تحت صوبے میں جدت، مصنوعی ذہانت کے استعمال اور مستقبل کے پروجیکٹس کو فروغ دینے کے لیے ایک نیا طاقتور محکمہ تشکیل دیا گیا ہے۔علی مصطفیٰ دار اب صوبائی کابینہ کے وزیر کے مساوی اختیارات رکھتے ہیں اور پنجاب اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کا حق بھی حاصل ہے۔علی مصطفیٰ دار نے اپنی ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج لاہور سے حاصل کی اور بعد میں یونیورسٹی کالج لندن اور یونیورسٹی آف مانچسٹر انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں سافٹ ویئر انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کی۔ انہوں نے برطانیہ میں دو دہائیوں پر محیط شاندار بین الاقوامی کیریئر بنایا۔پی ایم ایل این کی 2024 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد، علی مصطفیٰ دار نے پرو بونو اقدامات کے ذریعے عالمی کاروباری رہنماؤں کو پاکستان لانے، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور ریئل اسٹیٹ میں اور اسلام آباد و لاہور کے اعلیٰ سطحی دوروں کا اہتمام کرنے میں کردار ادا کیا۔ان کی خاندانی اور سیاسی وابستگی بھی اہم ہے۔ وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اسما نواز شریف کے شوہر اور سینئر سیاستدان سینیٹر اسحاق ڈار کے بڑے بیٹے ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: علی مصطفی
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟